تیری چھاؤں روٹھی ہے تو ہر خوشی بھی روٹھی ہے۔۔۔
یادیں اور درد
چھوڑا ہے جب سے شہر ترا اور مکان ، ماں
لکھتی رہی ہوں درد کی میں داستان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: کراچی: بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج، قیوم آباد سے مائی کلاچی تک ٹریفک جام
خوشیوں کی کمی
روٹھی ہے تیری چھاؤں تو روٹھی ہے ہر خوشی
سر پر مرے نہیں ہے کوئی سائبان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: ہم نے جیلیں کاٹی ہیں، کبھی چیخیں نہیں ماری تھیں، یہ بچاؤ بچاؤ کی آوازیں مار رہے ہیں: احسن اقبال
زندگی کے کانٹے
میرے وجود میں ہیں جو کانٹے اُگے ہوئے
بوتا رہا ہے خار سدا باغبان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: راول ڈیم کے سپل ویز کل صبح 6 بجے کھولنے کا فیصلہ
منزل کی تلاش
کانٹے چھُبے ہیں پاؤں میں اور تھک گئی ہوں میں
منزل کا پھر بھی کوئی نہیں ہے نشان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: مظفرگڑھ: زیادتی کا شکار طالبہ حاملہ، تعلیمی ادارے کے پرنسپل سمیت 4 افراد کیخلاف مقدمہ درج
ماں کی جدائی
تجھ سے بچھڑ کے پھر مجھے فرحت نہیں ملی
خوشیوں سے گو کہ پر ہے یہ سارا جہان ماں
نظم
کلام :ڈاکٹر فرزانہ فرحت ( لندن)








