تیری چھاؤں روٹھی ہے تو ہر خوشی بھی روٹھی ہے۔۔۔
یادیں اور درد
چھوڑا ہے جب سے شہر ترا اور مکان ، ماں
لکھتی رہی ہوں درد کی میں داستان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: کینال روڈ پر درختوں کی کٹائی کی اجازت نہیں دیں گے، لاہور ہائیکورٹ
خوشیوں کی کمی
روٹھی ہے تیری چھاؤں تو روٹھی ہے ہر خوشی
سر پر مرے نہیں ہے کوئی سائبان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے رفح کراسنگ کھول دی
زندگی کے کانٹے
میرے وجود میں ہیں جو کانٹے اُگے ہوئے
بوتا رہا ہے خار سدا باغبان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: نان فائلر پر800 سی سی سے زائد گاڑی خریدنے پر پابندی، موٹر سائیکل، رکشا خرید سکے گا، قومی اسمبلی میں بل پیش
منزل کی تلاش
کانٹے چھُبے ہیں پاؤں میں اور تھک گئی ہوں میں
منزل کا پھر بھی کوئی نہیں ہے نشان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین ایس ای سی پی، کمشنرز کی تنخواہوں میں سالانہ ڈیڑھ ارب غیر قانونی اضافے کا انکشاف، آڈٹ رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا
ماں کی جدائی
تجھ سے بچھڑ کے پھر مجھے فرحت نہیں ملی
خوشیوں سے گو کہ پر ہے یہ سارا جہان ماں
نظم
کلام :ڈاکٹر فرزانہ فرحت ( لندن)








