تیری چھاؤں روٹھی ہے تو ہر خوشی بھی روٹھی ہے۔۔۔
یادیں اور درد
چھوڑا ہے جب سے شہر ترا اور مکان ، ماں
لکھتی رہی ہوں درد کی میں داستان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: لسبیلہ : بس اور ٹریکٹر میں تصادم ، 4 افراد جاں بحق، 13 زخمی
خوشیوں کی کمی
روٹھی ہے تیری چھاؤں تو روٹھی ہے ہر خوشی
سر پر مرے نہیں ہے کوئی سائبان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: موٹروے پر مسافر بس گہرائی میں جاگری، 3 افراد جاں بحق، 30 زخمی
زندگی کے کانٹے
میرے وجود میں ہیں جو کانٹے اُگے ہوئے
بوتا رہا ہے خار سدا باغبان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس میں جج بھی پریشان ہے کہ کیسے سزا سنائے کیونکہ گواہ تو جھوٹے ثابت ہو گئے تھے، علیمہ خان
منزل کی تلاش
کانٹے چھُبے ہیں پاؤں میں اور تھک گئی ہوں میں
منزل کا پھر بھی کوئی نہیں ہے نشان ، ماں
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان حکومت نے سرکاری ملازمت کیلئے عمر کی حد 43سال کردی
ماں کی جدائی
تجھ سے بچھڑ کے پھر مجھے فرحت نہیں ملی
خوشیوں سے گو کہ پر ہے یہ سارا جہان ماں
نظم
کلام :ڈاکٹر فرزانہ فرحت ( لندن)








