چین کی روس کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کم کرنے کیلئے تعاون کی پیشکش
چین اور روس کا مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تعاون
بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن) چین کے وزیرخارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی لانے اور مشترکہ کوششوں کے لیے روس کے ساتھ مل کر تعاون کرنا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملیبرن کنسرٹ پلانر نے بھارتی گلوکارہ نیہا ککڑ کی پول کھول دی، تنازعہ شدت اختیار کرگیا
وزیر خارجہ کی ٹیلی فونک گفتگو
چینی سرکاری خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، چین کی کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور وزیرخارجہ وانگ یی نے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلی فونک پر گفتگو کی اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ثنا یوسف کا قتل، مختلف شہروں میں 11 چھاپے، 37 لوگوں سے تفتیش، گرفتار ملزم پہلے بھی ملاقات کی کوشش کر چکا: پولیس
مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ
وانگ یی نے کہا کہ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اہم مسائل پر بروقت رابطہ کاری برقرار رکھنے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورت حال بہتر کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں، علاقائی امن و استحکام کی حفاظت اور دنیا کے لیے سیکیورٹی بحال رکھنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا کا شناخت کی تصدیق کے لیے نیا ڈیجیٹل نظام متعارف
چین اور روس کی شراکت
انہوں نے کہا کہ چین اور روس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے طور پر اصولی معاملات پر شفافیت اور انصاف کا اصول برقرار رکھنا چاہیے، معروضی اور متوازن مؤقف اپنائیں اور عالمی برادری سے بہترین تجاویز اور تعاون حاصل کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے درمیان اعلیٰ سطح رابطے کا انکشاف، کیا بات چیت ہوئی ؟ جانئے
مشرق وسطیٰ کی صورت حال کی شدت
ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال مسلسل خراب، کشیدہ ہوتی جارہی ہے اور مزید بدتر صورت اختیار کر رہی ہے اور آبنائے ہرمز سے نقل و حمل یقینی بنانے کے لیے بنیادی حل کا دار مدار فوری جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کے عمران خان کیخلاف ہرجانے کے کیس میں اہم درخواست پر فیصلہ محفوظ
روسی وزیر خارجہ کا بیان
رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین ہمیشہ سے بین الاقوامی اور علاقائی مسائل مذاکرات اور گفت وشنید سے حل کرنے کی حمایت کر رہا ہے۔ اس موقع پر روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ روس کو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹے کو سیلابی ریلے سے بچاتے ہوئے باپ نے اپنی جان دے دی
سیاسی اور سفارتی حل کی ضرورت
موجودہ تنازع اور آبنائے ہرمز کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ روس کا مؤقف ہے کہ فوجی آپریشن فوری بند ہونا چاہیے اور تنازع کی بنیادی وجہ حل کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل کی طرف آنا چاہیے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس حوالے سے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔
تعاون کی تیاری
سرگئی لاروف نے کہا کہ روس اس حوالے سے چین کے ساتھ قریبی رابطے اور تبادلہ خیال جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے تعاون کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھنے اور بات کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔








