متحدہ عرب امارات پر منفی بیانیہ، بیس لاکھ پاکستانیوں کے مفاد پر وار

مباحثے کا آغاز

دبئی (طاہر منیر طاہر) متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی صحافیوں کے درمیان ہونے والے اہم مباحثے نے ایک نہایت سنجیدہ سوال کو پھر نمایاں کر دیا ہے کہ کیا یو اے ای کے بارے میں پاکستان میں میڈیا کے بعض حلقوں میں جاری منفی، جذباتی اور سنسنی خیز تجزیے محض ایک رائے ہیں، یا وہ درحقیقت یہاں مقیم بیس لاکھ پاکستانیوں کے مفادات، اعتماد، روزگار اور مستقبل کو متاثر کرنے والی ایک غیر ذمہ دارانہ روش یا سازش بنتے جا رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: بچوں کو مہنگی کتابیں، کاپیاں اور یونیفارم بیچنے والے نجی سکولوں کی شامت آ گئی

سوشل میڈیا پر غیر سنجیدہ طرزِ اظہار

حالیہ دنوں پاکستان میں سوشل میڈیا اور بعض پلیٹ فارمز پر خطے میں کشیدگی اور جنگی ماحول کے تناظر میں غیر سنجیدہ طرزِ اظہار دیکھنے میں آیا۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے بارے میں ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جیسے یہاں نظام کمزور پڑ چکا ہو، معیشت آخری سانسیں لے رہی ہو، یا معمولاتِ زندگی شدید بحران کا شکار ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: نئی دہلی مکمل فنڈنگ کر رہی ہے،دہشت گرد جو زبان سمجھتے ہیں انہیں اسی میں جواب دیا جائے گا، :خواجہ آصف

صحافیوں کی آراء

باہمی مباحثے میں شریک یو اے ای میں مقیم سینئر پاکستانی صحافیوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کا بیانیہ نہ زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی اسے صحافتی ذمہ داری کے دائرے میں درست قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پراپیگنڈا اور جھوٹی خبروں کی بھرمار، روک تھام ضروری کیوں؟ ویڈیو تجزیہ ڈاکٹر نوید الٰہی

کہانی کا مختلف زاویے

اس مباحثے میں صدر پی جے ایف طاہر منیر طاہر، صدر پی ایف یو جے یو اے ای خالد ملک، جنرل سیکرٹری پی ایف یو جے یو اے ای اور نمائندہ بول نیوز انصر اکرم، سینئر نائب صدر پی جے ایف اور نمائندہ نیو نیوز سعدیہ عباسی، جبکہ نمائندہ دنیا نیوز اور سینئر صحافتی شخصیت سید مدثر خوشنود نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: شہری کے اکاؤنٹ سے رقم آن لائن ٹریڈنگ ایپ پر منتقل کی، اسلام آباد میں پڑھے لکھے ملزمان نے شہری کو لوٹ لیا

سعدیہ عباسی کا مؤقف

سعدیہ عباسی نے گفتگو میں اس پہلو کو نمایاں کیا کہ بین الدولتی تعلقات اور مالی معاملات کو جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ، باوقار اور ذمہ دارانہ تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن متحدہ عرب امارات کے میڈیا کوآرڈینیٹر محمد شہزاد بٹ دبئی میں انتقال کر گئے

انصر اکرم کی رائے

انصر اکرم نے اس بحث میں الفاظ کی ذمہ داری کو مرکزی نکتہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر بار بار یہ تاثر دیا جائے کہ یو اے ای میں نظام کمزور پڑ گیا ہے، معیشت بیٹھ گئی ہے، یا روزمرہ زندگی بحران میں ہے، تو اس کا براہِ راست اثر یہاں مقیم پاکستانیوں کے ذہنی سکون، سماجی اعتماد اور معاشی تحفظ پر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد: سوشل میڈیا پر دوستی، نوجوان لڑکی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا

خالد ملک کی وضاحت

خالد ملک نے زور دیا کہ یو اے ای کے بارے میں ہر رائے کو زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں 2026 سے غیر ملکیوں کے لیے پراپرٹی خریدنے کا سنہری موقع

طاہر منیر طاہر کا قومی تناظر

طاہر منیر طاہر نے اس بحث کو وسیع تر قومی تناظر میں رکھا۔ ان کے مطابق یو اے ای صرف ایک میزبان ملک نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی، انسانی اور اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امن اور ترقی کے لئے تعلیم کی اہمیت مسلمہ ہے: وزیراعلیٰ مریم نواز کا تعلیم کے عالمی دن پر پیغام

سید مدثر خوشنود کی تنقید

سید مدثر خوشنود نے گفتگو کو محض ردِعمل سے نکال کر ایک اصولی صحافتی اور قومی مؤقف میں ڈھال دیا۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں بڑی کمی

حیات کی عمومی صورت حال

انہوں نے واضح کیا کہ بجلی، پانی، صحت، ٹرانسپورٹ، تجارتی مراکز، ایئرپورٹس، سیاحتی سرگرمیاں اور شہری زندگی کا عمومی بہاؤ معمول کے مطابق جاری ہے،

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے شکست، بھارتی چیفس آف ڈیفنس سٹاف عوام کو کرکٹ کی مثالوں سے تسلیاں دینے لگے

مباحثہ کا اختتام

مباحثے کے اختتام پر شرکاء کی جانب سے اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ یو اے ای نے موجودہ حالات میں اپنے دفاعی اور انتظامی نظام کے ذریعے جس مستعدی، نظم اور اعتماد کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سکول کے پچھواڑے سے پہاڑی علاقہ شروع ہوتا ہے، دوسرے استاد فٹ بال ٹیم کے انچارج بھی تھے، سگریٹ نوشی کی وجہ سے اُس سے اپنی گاڑی چھننے لگی۔

نتیجہ

مجموعی طور پر یہی نتیجہ سامنے آیا کہ یو اے ای کے بارے میں غیر متوازن، جذباتی اور منفی تجزیہ نہ صرف صحافتی معیار کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی غیر مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

آخری سوچ

آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ اس وقت خطے کو شور نہیں، شعور کی ضرورت ہے؛ خوف نہیں، فہم کی ضرورت ہے؛ اور منفی پروپیگنڈا نہیں، ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...