ہماری توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا بدلہ لیں گے، ایران کا صدر ٹرمپ کی دھمکی پر ردِعمل
ایران کی جانب سے دھمکی
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو ایرانی افواج بھی امریکہ کی اسی طرح کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: آئین کے آرٹیکل 6 کی کلاز 2 میں تبدیلی کا فیصلہ
انفراسٹرکچر پر حملے کے مضمرات
الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا کہ ’کسی ملک کے انفراسٹرکچر اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس ملک کی پوری آبادی کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور یہ ایک طرح سے جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم کے مترادف ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: سنبھل جاؤ، میں بس پہنچ رہی ہوں
امریکی انتظامیہ پر تنقید
اُن کا کہنا تھا کہ ’موجودہ امریکی انتظامیہ کسی منطق اور قانون کو نہیں مانتی اور بنیادی اخلاقیات کے تقاضوں سے عاری ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں کی کاز لسٹ منسوخ
آبنائے ہرمز کا معاملہ
اس سے قبل ایرانی صدر کے ترجمان مہدی طباطبائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو اسی صورت میں کھولا جائے گا، جب ایران ٹرانزٹ ٹول کا ایک حصہ جنگ سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے استعمال نہیں کر لیتا۔
واضح رہے کہ ایران نے یہ عندیہ دے رکھا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرے گا۔
جنرل علی عبداللہ علی آبادی کا ردعمل
ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ کے جنرل علی عبداللہ علی آبادی نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکی ایک ’بے بس، اعصاب شکن، غیر متوازن اور احمقانہ اقدام‘ ہے۔








