راولپنڈی کی حدود میں فوڈ کنٹرولر اسلام آباد کیسے کارروائی کر سکتا ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس، اختیارات کی تفصیلی رپورٹ طلب
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے راولپنڈی سے آٹے کے 2ٹرک تحویل میں لے کر سیل کرنے کیخلاف درخواست پر فوڈ کنٹرولر اسلام آباد کے اختیارات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ راولپنڈی کی حدود میں فوڈ کنٹرولر اسلام آباد کیسے کارروائی کر سکتا ہے؟ کس ضابطے کے تحت کارروائی کی گئی، اور نوٹیفائی افسر کون ہے؟
یہ بھی پڑھیں: این سی سی آئی اے اور دیگر ملازمین کی مستقلی کے کیس میں فریقین کو نوٹس جاری
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں راولپنڈی سے آٹے کے 2ٹرک تحویل میں لے کر سیل کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے فوڈ کنٹرولر اسلام آباد کے اختیارات کی تفصیلی رپورٹ طلب کی، اور رپورٹ 9 اپریل کو جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: گیانامیں فٹ بال میچ کے دوران ریفری کا متنازع فیصلہ، سٹیڈیم میدان جنگ بن گیا، 100 افراد ہلاک، عینی شاہدین کا موقف بھی آگیا
عدالت کی برہمی
دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ فوڈ کنٹرولر اسلام آباد کے اقدامات پر برہم ہوگئی۔ عدالت نے سوال کیا کہ راولپنڈی کی حدود میں فوڈ کنٹرولر اسلام آباد کیسے کارروائی کر سکتا ہے، اور کس قانون کے تحت کارروائی کی گئی؟
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ کے بعد کیوبا میں حکومت کی تبدیلی بھی وقت کا سوال ہے: ٹرمپ
سٹیٹ کونسل کا موقف
سٹیٹ کونسل نے کہا کہ فوڈ کنٹرولر اختیارات کے تحت کارروائی کر سکتا ہے۔ عدالت نے سٹیٹ کونسل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ زبانی باتیں نہ کریں، بلکہ ریکارڈ کے ساتھ جواب دیں۔
وفاقی کابینہ کا آرڈر
عدالت نے استفسار کیا کہ فوڈ کنٹرولر کو اختیارات دینے کا وفاقی کابینہ کا آرڈر کہاں ہے؟ جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ اگر آپ کے پاس اختیار نہیں تو پھر پاور کا استعمال کیسے کر سکتے ہیں؟ ڈی سی کو اسی لئے بلایا گیا کہ بتا سکیں کہ کیسے پاور استعمال کی جا رہی ہے۔ عدالت نے مزید سماعت 9 اپریل تک ملتوی کردی۔








