بلوچستان ہائیکورٹ نے بادینی بارڈر ٹرمینل منصوبے کا اشتہار غیر قانونی قرار دے دیا
بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بادینی بارڈر ٹرمینل منصوبے کا اشتہار غیر قانونی قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہر 2 دن بعد متعدد پیشیوں کے باوجود جج صاحب ہمیں گرفتار کروانا چاہتے ہیں، تو شوق پورا کرلیں، ایڈووکیٹ ایمان مزاری
عدالت کی جانب سے منسوخی
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس عدالت عالیہ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے 12 مئی 2025 کا اشتہار اور 18 اکتوبر 2025 کا کوریجنڈم منسوخ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بوریوالا یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے والا اسسٹنٹ پروفیسر گرفتار
نئی تقرری کے احکامات
عدالت نے حکم دیا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری قواعد کے مطابق نئے سرے سے کی جائے۔
بلوچستان ہائی کورٹ نے تقرری کے لیے شفاف سلیکشن کمیٹی بنانے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانون جس طریقہ کار کا تعین کرے اسی پر عمل لازم ہے۔
ٹینڈر کے عمل کی معطلی
ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق پلاننگ کمیشن قواعد کے برعکس تقرری کا اشتہار جاری کیا گیا تھا۔
عدالت نے منصوبے سے متعلق ٹینڈر کا عمل بھی ایک طرف رکھتے ہوئے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری تک منصوبے پر مزید کارروائی روکنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے اشتہار کالعدم قرار دیا۔ فیصلے کی نقل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان اور متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔








