ایران کے سعودی عرب کی کئی انرجی تنصیبات پر حملے
ایران کا سعودی عرب پر حملے کا دعویٰ
ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران نے سعودی عرب کے مشرقی صنعتی شہر الجبیل میں واقع اہم پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائی ایران کے اسالوئیہ میں قائم پیٹروکیمیکل تنصیبات پر ہونے والے مبینہ حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سڈنی فائرنگ واقعہ دہشتگردی قرار، حملہ آور باپ بیٹا نکلے، پولیس کا مزید ملزمان کی تلاش ختم کرنےکا اعلان
الجبیل کی اہمیت
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق الجبیل، جو سعودی عرب کے ڈاؤن اسٹریم توانائی شعبے کا مرکزی مرکز ہے، کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ یہ شہر سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو اور اس کی ذیلی کمپنی سابک کے علاوہ مغربی توانائی کمپنیوں کے اربوں ڈالر کے مشترکہ منصوبوں کا مرکز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی سیز فائر کی خلاف ورزی، پاک فوج کی موثر کارروائی، بھارتی چوکیاں تباہ
پاسداران انقلاب کا بیان
پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا کہ تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کے سدارا کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو آرامکو اور ڈاؤ انکارپوریٹڈ کا مشترکہ منصوبہ ہے، جبکہ الجبیل میں ایگزون موبل سے وابستہ تنصیبات پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب نے قریبی علاقے جُعیمہ میں ایک پیٹروکیمیکل تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم اس حوالے سے تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی موسیقار اے آر رحمان سے علیحدگی کے بعد اہلیہ کا بیان
سعودی عرب کا ردعمل
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سعودی عرب میں کون سی مخصوص تنصیبات متاثر ہوئیں، تاہم بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں الجبیل کی سمت سے دھواں اور آگ کے شعلے اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت طاقت دکھانے کی کوشش میں کمزوری ظاہر کر بیٹھا، الجزیرہ کا تجزیہ پڑھ کر آپ کو اپنی مسلح افواج پر فخر ہوگا
وزارت دفاع کا بیان
دوسری جانب سعودی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ مشرقی علاقے کی جانب داغے گئے سات بیلسٹک میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم ان کے ملبے کے کچھ حصے توانائی تنصیبات کے قریب گرے۔ سعودی آرامکو نے ان حملوں پر فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ سعودی حکام اور سابک کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
گلوبل تناؤ اور ایرانی خطرات
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بصورت دیگر اس کے سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جسے اس تنازع میں ممکنہ طور پر سب سے بڑی شدت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں اسی نوعیت کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔








