سینئرز جو نیئرز کو خوش آمدید نہیں کہتے تھے، اس تشنگی کا قرض ہم اتار رہے تھے، جو کچھ سیکھا خلوص نیت سے آنے والے نوجوان افسران کو سکھا اور بتا رہے تھے۔
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 491
یہ بھی پڑھیں: بنوں اور لوکی مروت میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن، 5 خوارج جہنم واصل
نئی شروعات
2017ء کا سال نئی نوید ساتھ لایا۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن سے 18 نئے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور سولہ اسسٹنٹ انجینئرز نے محکمہ جوائن کیا۔ ان کی تربیت کا مرحلہ تھا۔ آخری بار 89 میں اکیڈمی میں محکمہ کے اپنے افسران تربیت کے لئے آئے تھے۔ نئے افسران کی تربیت جدید تقاضوں کی متقاضی تھی۔ تربیت کے لئے فکلیٹی اکیڈمی اور وزٹنگ افسران شامل تھے۔ 6 ہفتے کی تربیت کے لئے نئے افسران آئے تو ان کے لئے ڈریس کوڈ لازمی قرار تھا۔ یہ بھی نئی شروعات تھی۔ افسران یا تو سوٹ پہن سکتے تھے یا قومی لباس معہ ویسٹ کوٹ۔ ہمارے دور کے مقابلے میں نئے افسران کو اب جدید تربیتی سہولیات میسر تھیں۔ تربیت میں اخلاقی اور دینی پہلو بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، تین دہشت گرد ہلاک
تجربے کا گھوٹا
عشاء کی نماز اور رات کے کھانے کے بعد قاری ضیاء اور میں ان نوجوان افسران کو اپنے پاس ریسٹ ہاؤس بلا لیتے کبھی ہوٹل کے کومن روم میں چلے آتے۔ ان سے گپ شپ کرتے، انہیں اپنے تجربات سناتے۔ لطیفے سنتے اور سناتے۔ عثمان نے وحید کے حوالے سے لطیفہ سنایا۔ محفل ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئی تھی۔ ماضی میں اس محکمہ کا ایک افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ سینئرز نئے جو نیئرز کو خوش آمدید نہیں کہتے تھے اور نہ ہی رہنمائی کرتے تھے۔ ہم نے اس تشنگی کا قرض اتارنے کی کوشش کی۔
ہم نے جو کچھ سیکھا تھا خلوص نیت سے آنے والے نوجوان افسران کو سکھایا اور بتایا۔ ہماری کوشش تھی کہ نوجوان افسروں کو وہ سب کچھ بتائیں جو ملازمت کے آغاز میں ان کے علم میں ہونا چاہیے تھا۔ اپنے تجربات سے بھی انہیں آگاہ کرنے کی کوشش کی تاکہ مستقبل میں وہ ان تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ نوجوان افسر بھی سر شام ہی اس محفل کا انتظار کرتے تھے۔ کبھی کبھار طاہر ضیاء بھی اس محفل میں چلاآتا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی بنگلہ دیش کے مشیر برائے امور خارجہ توحید حسین سے ملاقات
علم کی ترسیل
میں نے اپنی معلومات، تجربہ اور علم سینکڑوں اہل کاروں، منتخب نمائندوں، اور افسروں تک نہ صرف پہنچایا بلکہ دل سے کوشش کی کہ ان کی صلاحیتوں کو نکھار سکوں، ان کی سوچ کو مثبت رنگ میں ڈھال سکوں، اور ان کے علم میں اضافہ کر سکوں، تاکہ وہ اپنے فرائض تن دہی اور احسن انداز میں انجام دے سکیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا فرض ہے کہ علم کو دوسروں تک منتقل کریں کیونکہ علم بھی ان تین چیزوں میں سے ایک ہے جو موت کے ساتھ چلی جاتی ہیں اور باقی دو صدقہ اور اعمال ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ میں اس کوشش میں اللہ کی کرم نوازی سے کامیاب ٹھہرا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی غزہ پر بمباری میں مزید 60 فلسطینی شہید، یرغمالی امریکی فوجی لاپتا
بون فائر
ان کی تربیت کے اختتام سے ایک شب قبل پہلی بار اکیڈمی میں "بون فائر" کا اہتمام کیا گیا۔ یہ روایت ایسی ڈالی گئی کہ پھر یہ ہر تربیت کا لازمی جزو بن گئی۔ اس شب عام کھانوں کی بجائے بار بی کیو اور مچھلی کا بندوبست کیا جاتا۔ شرکائے تربیت اور تمام فیکلٹی کی اس میں شرکت لازمی تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مجھے ایک دو بار بون فائیر میں شرکت کا موقع ملا، تو بیتے دن یاد آ گئے تھے اور ایک خاص بندہ بھی جو جند اور جان بھی تھا۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








