پُرامن اور ہم آہنگ معاشرے کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے: ڈاکٹر احمد جاوید قاضی
ملاقات کی تفصیلات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی سے محکمہ داخلہ پنجاب میں سول سوسائٹی ممبرز کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ قومی عزم، سماجی یکجہتی اور ہم آہنگی کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یو ایف سی کمنٹیٹر جو روگن نے شراب نوشی ہمیشہ کیلئے چھوڑ دی، وجہ کیا بنی؟
سول سوسائٹی اور حکومت کی شراکت
اس دوران سول سوسائٹی اور حکومت کے درمیان شراکت داری کے فروغ، عوامی فلاح، نوجوانوں کی ترقی اور آگاہی پروگرامز پر زور دیا گیا۔ خصوصی ملاقات کا اہتمام پنجاب چیریٹیز کمیشن اور پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آسیہ اندرابی اور ساتھیوں کو سزائیں کشمیری قیادت کی آواز دبانے کی کوشش ہے، یہ صرف چند افراد کی سزا نہیں بلکہ پوری قوم کے حقِ خودارادیت پر حملہ ہے،مشعال ملک
ملاقت میں گفتگو
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ پرامن اور ہم آہنگ معاشرے کا قیام حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ شدت پسندی کے خاتمے اور رواداری کے فروغ کا پیغام عام کر رہے ہیں۔ معصوم بچوں کے تحفظ اور جنسی استحصال کے خاتمے کے لیے چائلڈ پروٹیکشن کی بھرپور آگاہی مہم جاری ہے۔ اسی طرح منظم اور پیشہ ور بھکاری مافیا کو قانون کے دائرے میں لاکر سخت سزائیں دی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب میں لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لیے تھرمل ڈرون کا استعمال
پنجاب کی نئی اصلاحات
پنجاب پروبیشن اینڈ پیرول سروس کو اپ گریڈ کر کے حادثاتی مجرمان کیلئے کمیونٹی سروس ماڈل متعارف کروایا گیا ہے۔ پنجاب سول ڈیفنس ریزیلینس کور کے تحت ہزاروں نوجوان رضاکاروں کو تربیت دی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زندگی کبھی ایسے موڑ پر لے آتی ہے کہ چیزیں آپ کے اختیار میں ہوتے ہوئے بھی بے بسی عود کر آتی ہے۔ دل کی بات نہ مان کر دکھ ہوتا ہے
سیف سٹی انفراسٹرکچر
ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ سیف سٹی انفراسٹرکچر پنجاب بھر تک پھیلایا جا رہا ہے اور پبلک سیفٹی ایپ سے فوری رسپانس میکنزم تیار کیا ہے۔ اب تک پنجاب میں 2 لاکھ سے زائد طلباء بھی ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ تقریر، حکومت نے بھارت کی آبی جارحیت سے نمٹنے کیلئے اقدامات کا اعلان کردیا
منشیات کے خلاف قوانین
حکومت پنجاب نظر ثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ پنجاب میں منشیات کے خلاف سخت قوانین نافذ ہیں جن کے تحت 25 سال تک قید اور بھاری جرمانے ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر تعلیمی اداروں کے گردونواح میں منشیات کے استعمال یا فروخت پر سخت ترین سزائیں دی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے امریکی صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام دینے کی سفارش کا خط بھیج دیا
معاشرتی کردار
انہوں نے کہا کہ معاشرے کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ حکومتِ پنجاب نے معاشرے کے معزز ارکان علماء کرام اور امام مسجد صاحبان کو آن بورڈ لیا ہے۔ امن، رواداری کے فروغ اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے قوانین کی پاسداری لازم ہے۔
ملاقات کے شرکاء
ملاقات میں چیف کوارڈینیشن آفیسر CoE-CVE غلام صغیر شاہد، سی سی او پنجاب چیریٹی کمیشن کرنل شہزاد عامر، ڈی سی او ڈاکٹر احمد خاور شہزاد، ڈاکٹر طاہر رضا بخاری، ڈائریکٹر سول ڈیفنس تسنیم علی خان و دیگر نے شرکت کی۔ سول سوسائٹی ممبرز میں سلمان عابد، ڈاکٹر اظہار ہاشمی، ڈاکٹر فرحان، سید کوثر عباس، شہباز برگد، شیزہ قریشی، سجاول وسیم، اظہر شجاعت، نوشین خالد، بشریٰ، ام لیلیٰ اظہر، قاسم ممتاز، بیلا رضا، عبید علی و دیگر شامل تھے۔








