ٹرمپ اپنی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد بھیج رہے ہیں جس میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہوں گے، ترجمان وائٹ ہاؤس
علیحدگی سے مذاکرات
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد بھیج رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں آئینی ترمیم کا معاملہ: پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
مذاکراتی ٹیم میں شامل افراد
وائٹ ہاؤس کے مطابق مذاکراتی ٹیم میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔ یہ ٹیم ہفتے کی صبح اسلام آباد میں بات چیت کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: صائمہ بلوچ نے ندا یاسر کے شو میں نہ جانے کی وجہ بتادی
ایران کی جنگ بندی کی درخواست
کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ایران نے جنگ بندی کا کہا اور بالآخر جنگ بندی تجاویز پر اتفاق کر لیا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ ایران کا اصل منصوبہ ناقابل قبول تھا جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایران نے معقول تجاویز فراہم کیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے جیلوں میں قید پاکستانی ماہیگیر اور چرواہوں کے انکاونٹر کرنا شروع کردیئے : عطاء تارڑ
ٹرمپ کی پوزیشن
ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی سرخ لکیریں تبدیل نہیں ہوئی ہیں، اور ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کھلنے کی توقع ہے۔ مذاکرات کا پہلا راؤنڈ ہفتے کو ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اوورسیز کمیونٹی گلوبل ٹیم کی قونصل جنرل آف پاکستان کے قونصل جنرل سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال
نیتن یاہو سے ملاقات
کیرولین لیوٹ کے مطابق، ٹرمپ نے منگل کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بات چیت کی تھی، مگر لبنان اس جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے۔ لبنان کے معاملے پر نیتن یاہو اور دیگر فریقین سے بات چیت جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے قطر پر حملے کی تصدیق کردی
پاکستانی وزیر اعظم کا رابطہ
اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور ایرانی مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا۔ ایرانی صدر نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے لیے اقدامات کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
آئندہ مذاکرات
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ ایران کا وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے گا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے جامع مذاکرات اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں، جس میں ایران کی جانب سے اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی جبکہ امریکا کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور اسٹیو وٹکوف شریک ہوں گے۔








