سکھ فار جسٹس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور جےڈی وینس کی 2027 کے نوبل امن انعام کیلئے نامزد گی کی درخواست جمع کروا دی
نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سکھ فار جسٹس کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور جے ڈی وینس کو 2027 کے نوبل امن انعام کیلئے نامزد کرتے ہوئے نوبل کمیٹی کو درخواست جمع کرادی۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی نے مبینہ آشنا کے ساتھ ملکر ضعیف العمر شوہر کو قتل کرکے گھر میں دفنا دیا، خاتون کا اعتراف جرم
سکھ فار جسٹس کی درخواست
تنظیم ‘سکھ فار جسٹس’ (SFJ) نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو سال 2027 کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ناروے کی نوبل کمیٹی کو باقاعدہ درخواست جمع کرائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افسوس ہے کہ خیبرپختونخوا کے بچے پتھر کے زمانے میں رہتے ہیں، پنجاب کی جین زی دنیا کو فتح کرنے کی تیاری میں ہے، مریم نواز
تاریخی کردار
ایس ایف جے نے بتایا کہ یہ نامزدگی امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی میں دونوں شخصیات کے کلیدی اور تاریخی کردار کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل ساحر شمشاد اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم
گرپتونت سنگھ پنوں کا بیان
تنظیم کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے اپنے بیان میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی ‘کمانڈ ڈپلومیسی’ کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطہ کرایا اور وہ کام کر دکھایا جو اقوام متحدہ بھی کرنے میں ناکام رہی تھی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو آنے والی صدیوں تک امن کے ‘نجات دہندہ’ کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ ان کی مداخلت سے ایک بڑے عالمی مسلح تصادم کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس عمل کے لیے انتہائی اہم سیاسی فیصلے کیے۔
سفارتی ماڈل کی اپیل
ایس ایف جے نے پاکستان اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ‘خالصتان’ کے مسئلے کے حل کے لیے بھی یہی سفارتی ماڈل اپنایا جائے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت سکھوں کو دبانے کے لیے ماورائے عدالت قتل کر رہی ہے اور بھارت کے زیرِ قبضہ پنجاب ایک "ٹکنگ ٹائم بم” بن چکا ہے، جس کے حل کے لیے عالمی مداخلت ضروری ہے۔








