پشاور ہائی کورٹ نے جلسوں میں سرکاری ملازمین، وسائل اور مشینری کے سیاسی استعمال کو غیر قانونی قرار دے دیا
پشاور کی ہائی کورٹ کا فیصلہ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائی کورٹ نے سیاسی جلسوں میں سرکاری وسائل کے استعمال کے خلاف کیس میں 28 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جے شاہ 35 سال کی عمر میں کرکٹ کی دنیا کا سب سے طاقتور آدمی کیسے بنے؟
عدالت کا فیصلہ
جسٹس صاحبزادہ اسداللہ پر مشتمل بنچ نے سرکاری ملازمین، وسائل اور مشینری کے سیاسی استعمال کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ صوبے کا وزیر اعلیٰ سرکاری وسائل کا آئینی نگران اور محافظ ہوتا ہے، جبکہ سرکاری ملازمین اور وسائل کا استعمال صرف عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کے انتخاب میں کلیدی کردار ادا کرنے والی سات ریاستیں
قانون اور اخلاقیات کا تحفظ
عدالت نے کہا کہ سرکاری مشینری کا استعمال آئین میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہونا ضروری ہے اور اختیارات سے تجاوز قانونی و اخلاقی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
فیصلے میں چیف سیکرٹری کو ہدایت کی گئی کہ تمام اداروں کو آئین اور قانون کے دائرے میں کام کرنے کا پابند بنایا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ سرکاری ملازمین، وسائل اور مشینری کسی سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہ ہوں۔
پولیس کے کردار میں واضح ہدایت
عدالت نے آئی جی خیبر پختونخوا کو بھی ہدایت کی کہ پولیس کا کسی بھی سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہ ہونے کو یقینی بنایا جائے۔








