جوادارے خود کو بالاتر سمجھتے ہیں، وہ وزیراعظم کے نیچے بھی کام نہیں کرتے بلکہ اپنی من مرضیاں کرتے ہیں؛ سہیل آفریدی
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ملاکنڈ ڈویژن میں سول سپریمیسی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ مالاکنڈ ڈویژن میں سوائے باجوڑ کے تمام اضلاع حوالہ ہوئے ہیں اور ہم اس میں اپنی سول سپریمسی قائم کریں گے۔ اس سے تمام ادارے آئین اور قانون کے دائرے میں کام کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فیونرل ہوم میں سڑتی ہوئی 18 انسانی لاشیں ملنے پر امریکہ میں ہنگامہ
قانون کی بالادستی
ان کاکہناتھا کہ آئین اور قانون کے مطابق تمام ادارے میرے انڈر ہیں، لیکن جو اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں تو پھر وہ اپنی مرضی کرتے ہیں۔ میں یہی کہہ رہا ہوں کہ جو آئین اور قانون کے دائرہ کار سے نکل کر خود کو بالاتر سمجھتے ہیں، وہ وزیراعظم کے نیچے بھی کام نہیں کرتے بلکہ اپنی من مرضیاں کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی سے متعلق آئی سی سی اجلاس کی اندرونی کہانی
امن کا قیام
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کاکہناتھا کہ اس کے ساتھ ساتھ مالاکنڈ ڈویژن کے علاوہ ساؤتھ ریجن اور ضم اضلاع میں بھی ہم امن کے قیام کے لیے اپنا پلان بنا رہے ہیں۔ اگر تمام ادارے صدق دل سے کردار ادا کریں تو 100 دن کے اندر امن ممکن ہے، اور میں پر امید ہوں کہ اس پلان پر عمل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک سال پرانی تقریر کے چند سیکنڈ کاٹ کر پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، ہمیشہ فلسطین کا مقدمہ لڑا، چوہدری سالک حسین
وزارت کابینہ کی تشکیل
سہیل آفریدی کاکہناتھا کہ کابینہ کے بغیر بھی جو ہماری باقی ڈیپارٹمنٹس ہیں، ان میں کارکردگی بہترین ہے اور تمام کام تیزی سے ہو رہے ہیں۔ برڈن کم کرنے اور بہترین ایڈمنسٹریشن کے لیے کابینہ بڑھانا ضروری ہے۔ اس میں کچھ ایشوز تھے جو کلیئر ہو چکے ہیں اور جلد ہی کابینہ کا اعلان ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پر سندھ میں نیا بحران، اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
قبائلی اضلاع کے لیے مالی پیکج
خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کے لیے ایک ہزار بلین پیکج کے حوالے سے سوال پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہناتھا کہ جو ہمارا بلین کا پیکج ہے مرجڈ اضلاع کے لیے تو اس میں تقریباً 187 ارب روپے خیبر پختونخوا یا مرجڈ علاقوں کو ملے ہیں، جبکہ 532 ارب روپے ان سات سالوں میں ہمارے بقایا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا نمائشی اقدام ہے: امریکا
مالی مواقع کا ذکر
ابھی آٹھواں سال تقریباً پورا ہونے کو ہے۔ اس میں تقریباً 342 ارب روپے جو پہلے ہی مختلف اضلاع میں جاری پیکجز کے تحت چل رہے ہیں، وہاں پر ہم نے سٹارٹ کیا ہوا ہے۔ ہم نے روخانہ قبائل کے نام سے ہزار ارب کے لیے اعلان کیا ہے، جس میں باقی اے آئی پی بھی شامل ہوں گے۔
صوبائی حصہ اور اضافی رقم کا اعلان
تقریباً ساڑھے چھ سو ارب روپے اس میں شامل ہوں گے، جبکہ 300 ارب روپے صوبائی حصہ تھا جو کمٹ کیا گیا تھا۔ اس میں 50 ارب روپے اضافی لگیں گے، یہ 50 ارب روپے بھی صوبہ اپنے وسائل سے قبائلی اضلاع کو دے گا، اور یہ اس سال کی 26 اور 27 اے ڈی پی میں ریفلیکٹ ہو جائیں گے، ان شاء اللہ تعالی، اور اس پر کام شروع ہو جائے گا۔








