بہت سے مسائل اور قباحتوں نے جنم لیا، بڑی بد مزگیاں ہوئیں بات مقدمات تک بھی جا پہنچی، اللہ نے کامیابی دی ہماری کوشش پسند کی گئی
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 494
یہ بھی پڑھیں: سچ کو کبھی بھی چھپایا نہیں جا سکتا، اپنی ذات سے محبت کیلئے صرف باطنی طمانیت درکار ہے دوسروں کی خوشنودی کی قطعی ضرورت نہیں
KOICA کا تعارف
KOICA جس کا ذکر اوپر بھی ہو چکا بنیادی طور پر دہی ترقی سے جڑا بین الاقوامی ادارہ ہے۔ اس نے بھی اکیڈمی سے ایک تربیتی ماڈیو ل(Module) بنوانے کی خواہش ظاہر کی جو وہ کمیونٹی کی تربیت کے لئے بنوانا چاہتے تھے۔ اکیڈمی کی گو اس ٹریڈ میں مہارت نہ تھی لیکن طاہر ضیاء، شیخ طارق اور میں نے مل کر کوشش کی۔ کچھ پرانی دستاویزات پر نظر دوڑائی۔ اللہ نے نہ صرف کامیابی دی بلکہ ہماری کوشش پسند بھی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: گنڈا سنگھ والا میں رینجرز کا ہنگامی ریسکیو آپریشن، سیلاب میں پھنسے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا
پنجاب ویمن ڈویلپمنٹ کا کردار
اسی طرح سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کے ذیلی ادارے پنجاب ویمن ڈویلپمنٹ جو خواتین کے حقوق کے تحفظ کا ادارہ تھا، نے پنجاب بھر کے نکاح رجسٹرار کو تربیتی کورس کروانا چاہتا تھا۔ اس ادارے نے اپنے کنسلٹنٹ عمران قریشی ایڈوکیٹ سے مل کر تربیتی کتابچہ ترتیب دیا جبکہ ٹریننگ وہ ہم سے کروانا چاہتے تھے۔ ان کی چیئرپرسن فوزیہ وقار ایک شاندار، روشن خیال اور پڑھی لکھی خاتون تھیں۔ انہوں نے خواتین کے حقوق کے لئے بہت کام کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ کے باعث عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ
تربیتی کتابچہ کی تیاری
وہ ہمارے پاس لالہ موسیٰ تشریف لائیں۔ اس تربیتی کتابچہ پر تفصیلی گفتگو کے بعد ہمارے ساتھ ساتھ وہ بھی اس نتیجہ پر پہنچیں کہ اس کتابچہ میں بڑی بہتری کی گنجائش تھی۔ ایک بار پھر اکیڈمی میں انہیں اس اہم موضوع پر بلا معاوضہ نکاح رجسٹرارز کا تربیتی کتابچہ انتہائی آسان، سادہ زبان میں ترتیب دیا گیا جس میں نکاح رجسٹرار کی ذمہ داریاں، فرائض اور نکاح نامہ کو درست انداز میں ”پر“ کرنا سمجھایا اور بتایا گیا تھا۔ اس تربیتی کتابچہ کی ”فیڈ بیک“ بھی بہت اچھی رہی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم 4 بنگلہ دیشی باشندوں کی ایران جانے کی کوشش ناکام، ایجنٹس سمیت گرفتار
نکاح رجسٹرار اور عائلی قوانین
بد قسمتی سے بہت سے نکاح رجسٹرار سیاسی بنیادوں پر نکاح رجسٹرار مقرر کئے گئے ہیں، بہت سے کم تعلیم یافتہ یا سرے سے خواندہ ہی نہیں ہیں اور کچھ نکاح ہی نہیں پڑھا سکتے ہیں۔ نہ ہی کبھی ان کی تربیت کی گئی۔ انہی وجوہات کی بناء پر بہت سے مسائل اور قباحتوں نے جنم لیا۔ بڑی بد مزگیاں ہوئیں اور بات مقدمات تک بھی جا پہنچی۔ 1961ء کا بنا قانون اور رولز بھی پرانے اور آج کی ضروریات کو پورا نہیں کرتے۔ ضرورت تھی کہ ان کو بہتر اور جدید تقاضوں کے ہم آہنگ کیا جائے۔ اکیڈمی نے اپنے تعین ایک جامع رپورٹ اور مجوزہ ترامیم کا ڈرافٹ بڑی محنت اور عرق ریزی سے تیار کرکے حکومت کو بھجوایا۔ افسوس محکمے نے اسے توجہ کے قابل ہی نہیں سمجھا۔
یہ بھی پڑھیں: قونصل جنرل پاکستان دوبئی حسین محمد کی فجیرہ کے ولی عہد شیخ محمد بن حمد بن محمد الشرقی سے ملاقات، نیک خواہشات کا اظہار
ضرورت و اہمیت
آج بھی اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ارباب اختیار ان رولز کی طرف توجہ دیں اور ان اہم قوائد کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ حکومت ان رولز اور قوانین کو چھیڑنے سے ڈرتی ہے کہ مذہبی لوگ برا منائیں گے حالانکہ ہماری تجویز کردہ ترامیم میں مذہبی حوالے سے کوئی بھی بات نہ کی گئی تھی۔ بہر حال ایک بات طے ہے، عائلی قوانین میں جہاں ترامیم انتہائی ضروری ہیں، وہیں ان کی اہمیت سے بھی انکار نہیں۔ یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ طلاق کے معاملات اور متعلقہ قانون میں عمال اور سیاسی لوگوں کی غلط تشریح اور کم عقلی نے خاندانوں کی اذیت میں کئی کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








