والد کا بچوں کی تربیت کا اپنا انداز تھا، ظاہری طور پر سخت نگرانی، غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ اور تھپڑ تک رسید کرنے والے، گھر آتے تو سب سہم جاتے۔
مصنف کی شناخت
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 362
یہ بھی پڑھیں: یونیسکو کا پاکستان میں میڈیا اینڈ انفارمیشن لٹریسی کی حکمت عملی پر مشاورت کا آغاز
والد کی تربیت کا انداز
میرے والد اولاد کو سونے کا نوالہ کھلانے اور شیر کی نظر سے دیکھنے کے قائل تھے۔ بچوں کی تربیت کا ان کا اپنا انداز تھا۔ دلی طور پر بے حد محبت ایثار کرنے والے لیکن ظاہری طور پر سخت نگرانی، غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ اور تھپڑ تک رسید کرنے والے جابر باپ کی مانند نظر آتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید کو کم سے کم 14 سال قید کی سزا ہوگی لیکن عمران خان کی جلد رہائی متوقع ہے یا نہیں؟ فیصل واوڈا کا تازہ بیان آگیا۔
خوف اور عزت
گھر آتے تو سب سہم جاتے۔ انہیں گھر میں والدہ اور دیگر وی آئی پی کی طرح عزت و احترام دیتے تھے اور ہم بچے نکتہ چینی ڈانٹ ڈپٹ کے خوف سے ڈرے سہمے رہتے تھے۔ ان دنوں ہم بچوں کو روز روز کی ڈانٹ ڈپٹ بہت بری لگتی تھی لیکن بڑے ہو کر مجھے اندازہ ہوا کہ باپ کی ڈانٹ ڈپٹ ہمیشہ بچوں کی بہتری میں ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی پولیو مہم کب سے شروع ہوگی، تاریخ کا اعلان ہوگیا
سخت تربیت کے فوائد
ان کے سخت گیر لب و لہجہ اور سخت ڈسپلن والی تربیت کی وجہ سے ہم نے ہر کام کو اہمیت دینا اور عمدگی سے انجام دینا سیکھا۔ ہم میں محنت کی لگن، احساس ذمہ داری، فرض شناسی اور خودداری جیسی اچھی عادات پیدا ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کانگو وائرس سے ایک اور شہری جان کی بازی ہار گیا۔
تعلیمی آزادی اور نگرانی
پرائمری مڈل کلاسز میں میری اچھی سکولنگ اور اچھے نتائج کے باعث مجھے فٹ بال، ہاکی، کرکٹ کھیلنے، واک اور تیراکی کے لئے نہر کی طرف جانے اور دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کی کافی آزادی ملی۔ لیکن نویں دسویں کلاسوں کے دوران میری نگرانی سخت ہوتی گئی اور ہاکی یا کرکٹ کھیلنا میرے لئے مشکل ہوگیا۔ بالخصوص دسمبر سے لیکر فائنل امتحان ہونے تک میرے کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون نے سندھ کا رخ کر لیا، موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب، بجلی بند
والد کا پیچھا
اس دوران ایسا کئی مرتبہ ہوا کہ چھٹتی نہیں منہ کو لگے ہوئے کے مصداق میں کتاب ہاتھ میں تھامے گھر میں یہ کہہ کر کہ میں پڑھنے جا رہا ہوں گھر سے باہر چلا جاتا۔ انہوں نے خاموشی سے کافی فاصلہ رکھتے ہوئے کہ میں انہیں دیکھ نہ سکوں میرا پیچھا کیا کہ جونہی میں کھیل کے میدان میں اپنے دوستوں میں جا کر کھیل میں شامل ہوتا کہ والد صاحب پہنچ گئے اور آواز دیکر مجھے واپس بلا کر لے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھی لوگ چاہتے ہیں کہ کاش ان کے پاس بھی مریم نواز جیسی وزیراعلیٰ ہوتی، عظمی بخاری
تعلیمی کامیابیاں
والد صاحب کی سخت نگرانی کے باعث اللہ کے فضل و کرم سے میں نے میٹرک کے امتحان میں اچھے ہائی فرسٹ کلاس نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور گورنمنٹ کالج لاہور میں میرٹ پر داخلہ لینے میں کامیاب رہا۔
یہ بھی پڑھیں: نامناسب ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد ٹک ٹاکر مناہل ملک نے شوبز چھوڑنے کا اعلان کردیا
ہوسٹل کی زندگی
گورنمنٹ کالج ہوسٹل میں رہتے ہوئے بھی گریجوایٹ بننے تک میری نگرانی جاری رہی۔ تعلیم کے لئے جڑانوالہ سے لاہور منتقل ہوتے ہی پہلے دن انہوں نے میرا بینک اکاؤنٹ لاہور میں کھلوایا جس میں وہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو میرے کالج ہوسٹل اخراجات کے لئے مناسب رقم ٹرانسفر کر دیا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے انٹرنیٹ کمپنی سٹارلنک کو فوری لائسنس جاری نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ ۔ ۔ ۔
مالی حالات
گورنمنٹ کالج میں تعلیم کا زمانہ بہت سستا زمانہ تھا۔ دو اڑھائی سو روپے ماہانہ میں تمام ضروری اخراجات پورے ہو جاتے تھے۔ لیکن تنخواہیں بھی بہت کم تھیں۔ زمین کی آمدنی بھی بہت کم تھی ایک ایکڑ زمین میں 5تا 7 من گندم پیدا ہوتی تھی جس کی قیمت بھی معمولی 10 روپے فی من سے بھی کم تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: لیاری میں سنیپ چیکنگ، ڈکیتی کا ملزم یو سی کونسلر گرفتار
والد کا غیرموقع ملاقات
میری تعلیمی و دیگر مصروفیات کا جائزہ لینے کے لئے ہر ماہ کم از کم کسی ایک دن بغیر اطلاع کئے وہ میرے ہوسٹل میں مجھے ملنے آتے تھے۔ جب انہوں نے مجھے ہوسٹل سے باہر پایا تو واپس جڑانوالہ جا کر مجھے خط لکھتے جس میں بڑے سخت الفاظ میں میری خوب خبر لی جاتی اور سرزنش کی جاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ڈی چوک پر لاشیں گرانے آ رہی ہے؛ فیصل واوڈا
خاندان کا تعاون
والد صاحب نے میرے دادا محمد شفیع خاں جو زمین پر اپنے انڈیا گاؤں والوں کے ساتھ چک نمبر131 جنوبی ضلع سرگودھامیں رہتے تھے سے گزارش کی کہ امیر کے کالج کا خرچ آپ اپنے ذمہ لے لیں۔ انہوں نے ذمہ داری لینے سے صاف انکار کر دیا البتہ میرے کالج کے اخراجات کے لئے میرے والد کے نام اپنی کل اراضی 71 ایکڑ میں سے30 ایکڑ میرے والد صاحب کے نام کروا دی اس طرح میرے والد صاحب کو میری تعلیم کے اخراجات پورا کرنے میں آسانی ہوگئی۔
اختتام
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








