کمال خرازی ایران کی خارجہ پالیسی ترتیب دینے والی شخصیات میں اہم ترین تصور کیے جاتے تھے
کمال خرازی کی زندگی
لاہور (خصوصی رپورٹ) کمال خرازی ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کے بھی مشیر رہ چکے ہیں اور نئے سپریم لیڈر کے لیے اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کی توجہ سندھ کی طرف اس لیے مرکوز ہوئی کیونکہ ہم نے نتائج دیئے: وزیر اعلیٰ سندھ
سیاسی حیثیت
وہ امور خارجہ سے متعلق ایران کی سٹریٹیجک کونسل کے سربراہ تھے۔ کمال خرازی کی عمر 81 برس تھی اور وہ ایران کی خارجہ پالیسی ترتیب دینے والی شخصیات میں اہم ترین تصور کیے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے گرلز ہاسٹل میں داخل ہونے والا نوجوان کیسے پکڑا گیا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں
وزارت خارجہ کا دور
کمال خرازی 1997ء سے 2005ء کے دوران اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کے دور میں وزیر خارجہ تھے۔ اِس وقت وہ مشاورتی ادارے کے سربراہ تھے جو ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کو خارجہ پالیسی پر سفارشات بھیجتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں بھارتی حکومت کے زیر سرپستی دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد سامنے آگئے
حملہ اور شہادت
واضح رہے کہ تہران میں کمال خرازی کے گھر پر یکم اپریل کو امریکہ و اسرائیل نے فضائی حملہ کیا تھا، جس میں وہ شدید زخمی اور ان کی بیوی شہید ہوگئیں۔
آخری رسومات
زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کمال خرازی نے جام شہادت نوش کیا۔ ان کی نماز جنازہ تہران میں ادا کر دی گئی، جس میں ایرانی عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔








