مری میں ٹریفک اہلکار کیساتھ بدتمیزی کرکے بھاگنے والا پکڑاگیا، معذرت پر مبنی ویڈیو جاری
واقعہ کی تفصیل
مری (ویب ڈیسک) مری میں جمعہ کی نماز کے بعد ٹریفک اہلکار کے ساتھ بدتمیزی کرکے بھاگنے والوں کی لگژری گاڑی ناکہ بندی کرکے روک لی گئی جس کے بعد متعلقہ شخص نے ویڈیو پیغام میں متعلقہ ذمہ داران سے معذرت کرتے ہوئے مستقبل میں قانون کی پاسداری کرنے کی یقین دہانی بھی کرادی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کا قتل؛ ثابت ہوا کہ بلوچ دہشتگرد تنظیموں کی ایران میں محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں
ٹریفک اہلکار کا بیان
تفصیل کے مطابق جھیکاگلی میں ٹریفک انچارج نے بتایاکہ مذکورہ لوگوں کے پاس بغیر نمبر پلیٹ گاڑی تھی جو نمازیوں کے قریب پارک کی گئی۔ انہیں منع کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے بھی نماز ادا کرنی ہے لیکن نماز کے بعد مشکوک جانتے ہوئے گاڑی کے کاغذات مانگے تو بدتمیزی کی اور بھاگ گئے، اس سے قبل دعویٰ کیا تھاکہ نواب شاہ یونیورسٹی کا چانسلر ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کے خلاف پہلے ون ڈے کے لئے پاکستان کی پلیئنگ الیون کا اعلان
سوشل میڈیا پر رد عمل
سوشل میڈیا صارف سعد احسن نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ جھیکاگلی میں ٹریفک انچارج ملک خفیظ کو دھمکیاں دینے والے ملزم کو ڈی پی او مری رضا تنویر کی ہدایت پر ناکہ بندی کر کے گرفتار کر کے تھانہ پھگواڑی لایا گیا جہاں ملزم نے اپنی غلطی تسلیم کی اور اپنے ناروا سلوک پر ٹریفک پولیس اور ملک خفیظ سے معذرت بھی کی بعدازاں ملزم کو بھاری بھرکم چالان کیساتھ تھانے سے رخصت کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان
معذرت کا ویڈیو پیغام
The accused in the Murree Traffic Warden altercation incident who has now been identified as a Dr. Farooq was apprehended by Punjab Police & made to apologise.
Congratulations to Punjab Police & the Punjab Govt on a successful software update. ???? @MaryamNSharif @OfficialDPRPP https://t.co/5isbIMnfai pic.twitter.com/BDbWQd5Twq
— Syed M. Saad Ahsan (@saadahsan) April 10, 2026
ڈاکٹر فاروق کا بیان
ویڈیو پیغام میں ملزم نے بتایا کہ میں ڈاکٹر فاروق ہوں، یہاں پی سی بھوربن کانفرنس کے حوالے سے آیا تھا، جھیکا گلی چوک پر نماز جمعہ کے بعد جلدی کی وجہ سے ٹریفک افسر کے ساتھ نامناسب الفاظ کہہ گیا، جو غلط ہوا اور اپنے رویے پر معذرت چاہتا ہوں، پنجاب پولیس کے افسران سے بھی معذرت چاہتا ہوں اور مستقبل میں میں قانون کی پاسداری کروں گا۔








