ایران کے منجمد اثاثے ریلیز کرنے پر اتفاق نہیں ہوا، سی بی ایس
امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کشیدگی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی حکام نے ایرانی اثاثوں کی ممکنہ ریلیز سے متعلق خبروں کی واضح طور پر تردید کر دی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر کسی بھی قسم کی رضامندی ظاہر نہیں کی، اور اس حوالے سے گردش کرنے والی رپورٹس درست نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حسینہ عالم کا تاج میکسیکو کی فاطمہ کے سر سج گیا
امریکی نائب صدر کی پاکستان کے وزیر اعظم سے ملاقات
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے دو طرفہ ملاقات کی، تاہم ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں باقاعدہ مذاکرات کا آغاز نہیں ہوا اور نہ ہی کسی معاہدے پر بات چیت کی گئی۔ یہ ملاقات ایک ابتدائی سفارتی رابطے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ تعاون کے پہلوؤں پر عمومی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ: لڑکیوں سے زیادتی کرنے والے 20 ملزمان کو مجموعی طور پر 219 سال قید کی سزا
قطر کے اعلیٰ عہدیدار کی وضاحت
ادھر قطر کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے تقریباً 6 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے اب بھی قطر میں موجود ہیں اور ان کی رہائی کے لیے امریکی محکمہ خزانہ کی منظوری درکار ہوگی۔ قطری حکام کے مطابق فی الحال ایسی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جس سے ان اثاثوں کے اجراء کا امکان ظاہر ہو۔
روئٹرز کے دعوے
واضح رہے کہ اس سے پہلے برطانوی خبر ایجنسی روئٹرز کے حوالے سے دعوے کیے جا رہے تھے کہ امریکہ نے قطر میں منجمد کیے گئے ایرانی اثاثے ریلیز کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔








