ٹرمپ کی شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی تعریف، امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی ناکہ بندی کا حکم دے دیا۔
امریکی صدر کا دھماکہ خیز بیان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ طویل مذاکرات کے باوجود جوہری پروگرام کے مسئلے پر کوئی پیش رفت نہ ہونے پر سخت بیان جاری کیا۔ انہوں نے اس صورتحال کے پیش نظر امریکہ کی جانب سے عسکری قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افسر کم اور غنڈے زیادہ لگتے ہیں
اسلام آباد میں مذاکرات کی صورتحال
ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ اسلام آباد میں تقریباً 20 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں بظاہر کچھ کامیابی حاصل ہوئی، تاہم ایران کا جوہری پروگرام ایک اہم مسئلہ رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران ابھی تک اپنے جوہری عزائم سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 2014 کے دھرنے میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی،اعظم سواتی مقدمے سے بری
امریکی بحریہ کا اقدام
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے اپنی بحریہ کو ہدایت دے دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی ناکہ بندی کی جائے۔ یہ فیصلہ ایران کے دھمکی آمیز اعلانات کے نتیجے میں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد بن سلمان کے بارے کلمات امت مسلمہ کی توہین ہے، ٹرمپ کے توہین آمیز جملوں پر مولانا فضل الرحمان کا ردعمل سامنے آگیا
ایران کے خلاف الزامات
ٹرمپ نے ایران پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی تجارت کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور یہ “عالمی سطح کی بھتہ خوری” ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی جہاز کو ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے کی صورت میں بین الاقوامی پانیوں میں روک کر چیک کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریفک پولیس کی یونیفارم تبدیل کرنے کی تیاری، قوانین میں ترامیم
امریکہ کے جواب کی متوقع شدت
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر کسی ایرانی فورس نے امریکی یا تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی، تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ میں حالیہ جنگی کارروائیوں کے سبب نقصانات ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے ایران میں ہسپتال پر حملہ کردیا
پاکستانی قیادت کی تعریف
ٹرمپ نے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران پاکستانی قیادت کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے خطے میں امن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مستقبل کی دھمکیاں
ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اگر ضرورت پیش آئی تو فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولے۔








