بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 496
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے 4 ماہ گزرنے کے باوجود واجبات ادا نہیں کیے، جیسن گلیسپی کے انکشاف نے نیا تنازعہ کھڑا کردیا
سڈنی سکول لالہ موسیٰ اکیڈمی کا ایم او یو
اس ایم او یو کے مطابق سڈنی سکول لالہ موسیٰ اکیڈمی کی فیکلٹی کی آن لائن اور سڈنی کیمپس میں تربیت کرے گا۔ جدید ماڈیول سے آگاہی دے گا اور ماڈیول ڈویلپمنٹ کا ہنر بھی سکھائے گا۔ سڈنی سے ماہرین لالہ موسیٰ "زوم" پر بھی ٹرنیز کو تربیت دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: زمین کے تنازع کا کیس: جسٹس محسن اختر کیانی وکلاء پر الزام لگانے والے شہری پر برہم
تفصیلی رپورٹ
سڈنی روانگی سے قبل یہ خاتون اپنی تفصیلی رپورٹ بھی اربن یونٹ اور محکمہ بلدیات کے کو دے گئیں تھی۔ میں نے سیکرٹری بلدیات سے درخواست کی؛ "سر! ایک تجویز ہے ہمیں لالہ موسیٰ اکیڈمی کو 'ر آف ایکسیلنس فار لوکل گورننس' ڈیکلیئر کردینا چاہیے۔" انہیں یہ خیال بہت پسند آیا۔ انہوں نے اربن یونٹ اور میری تجویز کو پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ نیا نام تجویز کرنے کے لئے بھجوا دیا۔ آنے والی میٹنگ کے ایجنڈا آئٹم نمبر 5 یہی تجویز تھی۔
یہ بھی پڑھیں: فنٹاسٹک فور کے مشہور اداکار جولیان میک موہن 56 سال کی عمر میں انتقال کرگئے
میٹنگ کی روداد
جیسا آپ چاہیں؛ چیئرمین پی این ڈی جہاں زیب خاں کی صدارت میں اجلاس ہوا۔ جب ہمارے ایجنڈے آئٹم کی باری آئی تو چیئرمین اس کے حق میں نہ تھے۔ انہوں نے لالہ موسیٰ کا نام بھی بڑی ہتک آمیز لہجے میں لیا۔ میں نے عرض کرنا چاہا تو انہوں نے ڈانٹ دیا۔ ہماری سی ایس پی کلاس بس حاکم ہے اور عوام اور دوسرے افسران بھیڑ بکریاں ہی سمجھتی ہیں۔ انہوں نے ایشین ڈولپمنٹ کے وفد کو تجویز دی کہ آپ یہ رقم ہمارے "سٹاف کالج" کو دے دیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعد رفیق نے این اے 129 لاہور کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے معذرت کی
اجلاس کی کارروائی
چیئرمین چیف دی مشن کی یہ بات سن کر پریشان ہوئے اور بولے۔ "It's approved." "بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے۔" چیئرمین کی ایک ناگوار مسکراہٹ سے میٹنگ اختتام پذیر ہوئی تھی۔ اس منظوری میں اربن یونٹ کے عابد حسینی اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ اپنی سروس کے میرے لئے یہ یادگار لمحات تھے۔
یہ بھی پڑھیں: یمن کے صوبے صنعا میں امریکی فضائی حملہ، 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
GIZ کا کردار
GIZ؛ GIZ جرمن ڈونرز ہیں۔ حکومت جرمنی کا ذیلی ادارہ۔ اتفاق دیکھیں کبھی ہمارا ملک جرمنی کو امداد دیا کرتا تھا۔ وہ کہاں نکل گئے اور ہم کہاں پہنچ گئے۔ جی آئی زی پنجاب آنے سے پہلے خیبر پختون خوا میں لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور لوکل گورنمنٹ بورڈ کو تربیتی پروگرامز ترتیب دینے اور بجٹ بنانے میں سپورٹ اور تربیت کر رہے تھے۔ آمدن کے ذرائع بڑھانے، بجٹ قانون و قائدے کے مطابق تیار کرنے، خرچ کرنے، مقامی حکومتوں کو سلف ہیلپ اور ان کی استعداد کار بڑھانے پر اپنا فوکس کئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے روش نہ بدلی تو آخر تک لڑیں گے، چین کا ٹیرف کے معاملے پر امریکا کو انتباہ
تعلیم اور ترقی
اربن یونٹ اور اکیڈمی کو سینٹر آف ایکسیلنس فار لوکل گورننس کی منظوری کے بعد انہوں نے بھی ہماری طرف رخ کیا۔ لالہ موسیٰ کی طرف ہوائیں چاروں سمت چل پڑی تھیں۔ جو بڑے بڑے نامی لوگ نہ کر سکے، اللہ نے اس ناچیز سے کرا دیا تھا۔ ایک سال میں اکیڈمی کا نام ملک بھر میں لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے جانا جانے لگا تھا۔ GIZ کے وفد میں 3 جرمن اور 2 پاکستانی شامل تھے۔ ان میں خیبر پختون خواہ کے کوآرڈینیٹر گوہر (اچھے، سلجھے ہوئے اور ہنس مکھ انسان تھے) خاتون اسسٹنٹ صنم (سر پر ڈوپٹہ، آنکھوں میں شرم و حیا اور اپنے کام سے کام) مسٹر رائینل GIZ پاکستان کے سربراہ شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ہر گھر میں استعمال ہونے والی وہ گولی جو دل کی ناکامی کا سبب بن سکتی ہے، نئی تحقیق میں تہلکہ خیز انکشاف
اکیڈمی کا کامیابی کا دن
یہ 2 گھنٹے کے لئے ہمارے پاس آئے تھے لیکن انہیں اکیڈمی کے سحر نے ایسا جکڑا کہ یہ شام تک ہمارے مہمان رہے۔ 2 گھنٹے کی بریفنگ اور سوال و جواب کے بعد وہ اس بات پر متفق تھے کہ ان سہولیات اور اس ماحول میں تربیت کے لئے اس سے بہتر کوئی دوسری جگہ ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ انہوں نے کیمپس کا چکر لگایا۔ ہمارے کک کا بنا مٹن قورمہ اور چنے کی دال کی لذت سے انگلیاں چاٹیں۔ بعد دوپہر یہاں سے رخصت ہوئے تو اپنے دل اکیڈمی کی پر فضاء لانز میں ہی چھوڑ گئے تھے۔ کچھ ہفتوں کے بعد دوبارہ ایک بڑا یہاں پہنچا اور مقامی حکومتوں کے لئے تربیت کے معائدے پر دستخط کر گیا۔ اکیڈمی کی یہ ایک اور کامیابی تھی۔
(جاری ہے)
نوٹ
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








