بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 496
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے لوگوں کی ہلاکت پر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے،بیرسٹر دانیال چودھری
سڈنی سکول لالہ موسیٰ اکیڈمی کا ایم او یو
اس ایم او یو کے مطابق سڈنی سکول لالہ موسیٰ اکیڈمی کی فیکلٹی کی آن لائن اور سڈنی کیمپس میں تربیت کرے گا۔ جدید ماڈیول سے آگاہی دے گا اور ماڈیول ڈویلپمنٹ کا ہنر بھی سکھائے گا۔ سڈنی سے ماہرین لالہ موسیٰ "زوم" پر بھی ٹرنیز کو تربیت دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سفارتخانے نے پاسداران انقلاب کے رہنما سے منسوب پاکستان مخالف بیان کو جعلی قرار دیدیا
تفصیلی رپورٹ
سڈنی روانگی سے قبل یہ خاتون اپنی تفصیلی رپورٹ بھی اربن یونٹ اور محکمہ بلدیات کے کو دے گئیں تھی۔ میں نے سیکرٹری بلدیات سے درخواست کی؛ "سر! ایک تجویز ہے ہمیں لالہ موسیٰ اکیڈمی کو 'ر آف ایکسیلنس فار لوکل گورننس' ڈیکلیئر کردینا چاہیے۔" انہیں یہ خیال بہت پسند آیا۔ انہوں نے اربن یونٹ اور میری تجویز کو پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ نیا نام تجویز کرنے کے لئے بھجوا دیا۔ آنے والی میٹنگ کے ایجنڈا آئٹم نمبر 5 یہی تجویز تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اسد، احتشام، امیر اور ذوہیب کی شاندار فتوحات؛ کوارٹر فائنلز میں رسائی
میٹنگ کی روداد
جیسا آپ چاہیں؛ چیئرمین پی این ڈی جہاں زیب خاں کی صدارت میں اجلاس ہوا۔ جب ہمارے ایجنڈے آئٹم کی باری آئی تو چیئرمین اس کے حق میں نہ تھے۔ انہوں نے لالہ موسیٰ کا نام بھی بڑی ہتک آمیز لہجے میں لیا۔ میں نے عرض کرنا چاہا تو انہوں نے ڈانٹ دیا۔ ہماری سی ایس پی کلاس بس حاکم ہے اور عوام اور دوسرے افسران بھیڑ بکریاں ہی سمجھتی ہیں۔ انہوں نے ایشین ڈولپمنٹ کے وفد کو تجویز دی کہ آپ یہ رقم ہمارے "سٹاف کالج" کو دے دیں۔
یہ بھی پڑھیں: باڑہ سے 4 لاشیں برآمد
اجلاس کی کارروائی
چیئرمین چیف دی مشن کی یہ بات سن کر پریشان ہوئے اور بولے۔ "It's approved." "بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے۔" چیئرمین کی ایک ناگوار مسکراہٹ سے میٹنگ اختتام پذیر ہوئی تھی۔ اس منظوری میں اربن یونٹ کے عابد حسینی اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ اپنی سروس کے میرے لئے یہ یادگار لمحات تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایئرلائن نے اسلام آباد اور پشاور کے لیے پروازیں شروع کردیں
GIZ کا کردار
GIZ؛ GIZ جرمن ڈونرز ہیں۔ حکومت جرمنی کا ذیلی ادارہ۔ اتفاق دیکھیں کبھی ہمارا ملک جرمنی کو امداد دیا کرتا تھا۔ وہ کہاں نکل گئے اور ہم کہاں پہنچ گئے۔ جی آئی زی پنجاب آنے سے پہلے خیبر پختون خوا میں لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور لوکل گورنمنٹ بورڈ کو تربیتی پروگرامز ترتیب دینے اور بجٹ بنانے میں سپورٹ اور تربیت کر رہے تھے۔ آمدن کے ذرائع بڑھانے، بجٹ قانون و قائدے کے مطابق تیار کرنے، خرچ کرنے، مقامی حکومتوں کو سلف ہیلپ اور ان کی استعداد کار بڑھانے پر اپنا فوکس کئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر بھارت سے مذاکرات ہوئے تو پانی، دہشتگردی اور کشمیر پر بات ہوگی: وزیر دفاع
تعلیم اور ترقی
اربن یونٹ اور اکیڈمی کو سینٹر آف ایکسیلنس فار لوکل گورننس کی منظوری کے بعد انہوں نے بھی ہماری طرف رخ کیا۔ لالہ موسیٰ کی طرف ہوائیں چاروں سمت چل پڑی تھیں۔ جو بڑے بڑے نامی لوگ نہ کر سکے، اللہ نے اس ناچیز سے کرا دیا تھا۔ ایک سال میں اکیڈمی کا نام ملک بھر میں لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے جانا جانے لگا تھا۔ GIZ کے وفد میں 3 جرمن اور 2 پاکستانی شامل تھے۔ ان میں خیبر پختون خواہ کے کوآرڈینیٹر گوہر (اچھے، سلجھے ہوئے اور ہنس مکھ انسان تھے) خاتون اسسٹنٹ صنم (سر پر ڈوپٹہ، آنکھوں میں شرم و حیا اور اپنے کام سے کام) مسٹر رائینل GIZ پاکستان کے سربراہ شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا کی جعلی ویب سائٹ کا انکشاف، نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو تحقیقات کیلئے شکایت جمع
اکیڈمی کا کامیابی کا دن
یہ 2 گھنٹے کے لئے ہمارے پاس آئے تھے لیکن انہیں اکیڈمی کے سحر نے ایسا جکڑا کہ یہ شام تک ہمارے مہمان رہے۔ 2 گھنٹے کی بریفنگ اور سوال و جواب کے بعد وہ اس بات پر متفق تھے کہ ان سہولیات اور اس ماحول میں تربیت کے لئے اس سے بہتر کوئی دوسری جگہ ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ انہوں نے کیمپس کا چکر لگایا۔ ہمارے کک کا بنا مٹن قورمہ اور چنے کی دال کی لذت سے انگلیاں چاٹیں۔ بعد دوپہر یہاں سے رخصت ہوئے تو اپنے دل اکیڈمی کی پر فضاء لانز میں ہی چھوڑ گئے تھے۔ کچھ ہفتوں کے بعد دوبارہ ایک بڑا یہاں پہنچا اور مقامی حکومتوں کے لئے تربیت کے معائدے پر دستخط کر گیا۔ اکیڈمی کی یہ ایک اور کامیابی تھی۔
(جاری ہے)
نوٹ
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








