آئی پی ایل: روہت شرما بلے کی جانچ کے دوران امپائر پر برہم ہوگئے، ویڈیو وائرل
روہت شرما کی برہمی
ممبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن)انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے ایک اہم میچ میں ممبئی انڈینز کے سٹار بلے باز روہت شرما امپائر پر برہم ہونے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی 4 نئی کتب کی تقریب رونمائی، تحقیق کے دروازے بند کرنے والی قومیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں: مقررین کا تقریب سے خطاب
واقعہ کی تفصیلات
یہ واقعہ وانکھیڑے سٹیڈیم میں رائل چیلنجرز بنگلورو کے خلاف کھیلے گئے میچ کے دوران اس وقت پیش آیا جب پانچ مرتبہ کی چیمپئن ٹیم ہدف کے تعاقب کے لیے میدان میں اتر رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایمرجنگ ایشیاکپ؛ امپائرز کے غلط فیصلے نے پاکستان کو ہروادیا
بیٹ کی چیکنگ میں تاخیر
اننگز کے آغاز سے پہلے روہت شرما کے بیٹ کو قواعد کے مطابق چیک کیا گیا تاہم اس عمل میں غیر معمولی تاخیر ہوئی جس نے انہیں واضح طور پر بے چین کر دیا۔
ذرائع کے مطابق بیٹ کی منظوری میں تاخیر کے باعث میچ کی روانی بھی متاثر ہوئی، جبکہ روہت اس دوران امپائرز کے فیصلے کے منتظر رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے مزید 547 افراد کی وطن واپسی، 7 روز کے دوران 3326 افراد پاکستان واپس پہنچ گئے
چیکنگ گیج کا مسئلہ
ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ چیکنگ گیج روہت شرما کے بیٹ میں پھنس رہا تھا، کئی مرتبہ چیک کرنے کے امپائر نے دوسرے اوپنر کا بیٹ چیک کیا تو گیج باآسانی اس میں سے گزر گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کچہری میں پیشی کے دوران ملزم کا سر اپنی گود میں رکھ کر دبانے والا انوکھا پولیس اہلکار، ویڈیو
سوشل میڈیا پر بحث
WHY WAS ROHIT SHARMA ALLOWED TO TAKE HIS BAT WHEN IT GOT STUCK IN THE MEASURING GAUGE SO MANY TIMES?
Are there different rules for different players?
Do you think it was fair to allow Rohit Sharma to take the field with this bat? pic.twitter.com/iwWNrpRx5N
— Brutal Truth (@sarkarstix) April 12, 2026
یہ بھی پڑھیں: مشفیق الرحیم نے یونس خان کا ٹیسٹ ریکارڈ توڑ دیا
ٹیم میٹ کا تعاون
اس دوران روہت شرما جھنجلائے ہوئے نظر آئے، اتنے میں ان کے ٹیم میٹ تلک ورما وہاں آئے اور چیکنگ گیج کو تھوڑا زور لگاکر بیٹ سے گزارا۔
شائقین کی توجہ
اس موقع پر روہت شرما نے امپائر پر اظہار برہمی بھی کیا۔ اس صورتحال نے شائقین کی توجہ بھی حاصل کی اور سوشل میڈیا پر اس پر بحث شروع ہو گئی ہے۔








