بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کیخلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائیکورٹ نے بجلی بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کے خلاف دائر درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف کو روب جیٹن کو نیدرلینڈز کے وزیرِاعظم کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد

نیپرا اور دیگر سے جواب طلبی

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے درخواست پر نیپرا سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بتایا جائے سلیب سسٹم کس قانون کے تحت نافذ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں میں استعمال ہونے والے کچھ بم پھٹ نہیں سکے تھے اور وہ بم اب بھی وہاں ہی موجود ہیں: ایرانی وزیر خارجہ کا انکشاف

درخواست کا پس منظر

اشبا کامران کی درخواست پر ابتدائی سماعت جسٹس خالد اسحاق نے کی۔ درخواست میں نیپرا سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انتہا پسندوں کی دھمکیاں، بنگلہ دیش نے بھارت کے لیے ویزوں کا اجرا روک دیا

درخواست گزار کا مؤقف

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بجلی بلوں میں سلیب سسٹم کا نفاذ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ 200 یونٹس تک بجلی کے بلز پروٹیکٹڈ کیٹگری میں شامل ہوتے ہیں، تاہم سلیب سسٹم کے تحت بجلی کے بل دوگنا سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی طیاروں کی تباہی کے ناقابلِ تردید شواہد منظر عام پر آگئے

سزا کے طور پر زیادہ بلز

مؤقف میں کہا گیا کہ یہ دوگنا سے بھی زیادہ بل سزا کے طور پر 6 ماہ تک بھیجے جاتے ہیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ نیپرا ایک ریگولیٹری اتھارٹی ہے نہ کہ سزا دینے والا ادارہ، جبکہ سلیب سسٹم نیپرا ایکٹ کی متعدد دفعات سے بھی متصادم ہے۔

عدالت سے استدعا

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بجلی بلوں میں سلیب سسٹم کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا جائے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...