عراق کی سرزمین سے ڈرون حملے، سعودی عرب نے عراقی سفیر کو طلب کر لیا
سعودی وزارت خارجہ کا عراقی سفیر کو طلب کرنا
ریاض (ویب ڈیسک) سعودی وزارت خارجہ نے اتوار کو مملکت میں عراق کی سفیر صفیہ طالب السھیل کو عراقی سرزمین سے ڈرونز کے ذریعے مملکت اور خلیجی ملکوں کو نشانہ بنانے کے لیے مسلسل حملوں اور دھمکیوں پر طلب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: طلبہ کی موجیں ، سکولوں میں چھٹیاں دینے کی تجویز آ گئی
احتجاجی یادداشت کا حوالہ
سعودی وزارت خارجہ نے عراق کی سفیر کو احتجاجی یادداشت حوالے کی۔ اردو نیوز کے مطابق مملکت اور خلیجی ملکوں کے خلاف حملوں میں عراقی سرزمین استعمال کیے جانے کی مذمت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ، اب تک امریکہ کے 7 طیارے تباہ ہوچکے، سی این این
سعودی عرب کی جانب سے ذمہ داری کا اظہار
سعودی نیوز ایجنسی سپا کے مطابق وزارت خارجہ کے انڈر سیکرٹری برائے سیاسی امور نے عراق کو ایسے حملوں اور خطرات سے ’ذمہ داری سے نمٹنے‘ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب‘ اپنی سلامتی کے دفاع اور اپنی سرزمین کے تحفظ کےلیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ محفوظ نہیں ہے، سگنل بھی مشکوک ہیں اس لیئے ایکس چیٹ استعمال کریں۔ ایلون مسک نے حیران کن پیغام جاری کر دیا
عرب ممالک کا مشترکہ بیان
اس سے قبل سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور اردن نے مشترکہ بیان میں عراقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین سے پڑوسی ملکوں پر مسلح گروپوں اور ملیشیاوں کے حملے فوری طور پر روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
یہ بھی پڑھیں: شعبۂ صحت کے 21 منصوبوں کے لیے بھی رقم مختص
ایران کی مذمت
مشترکہ بیان میں ایران کی جانب سے حملوں کی شدید مذمت کا اعادہ کیا گیا خواہ وہ براہ راست کیے گئے یا پراکسیز اور خطے میں ایران نواز مسلح گروپوں کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
بیان میں کہا گیا ’یہ حملے نہ صرف علاقائی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی منافی ہیں، چاہے یہ حملے براہ راست ہوں یا ایران نواز فریقوں اور مسلح گروپوں کے ذریعے کیے جائیں۔’








