آئینی ترمیم خفیہ طریقے سے لائی جارہی ہے، حصہ نہیں بنیں گے: اخترمینگل

سردار اختر مینگل کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم خفیہ طریقے سے لائی جارہی ہے اور وہ اس کا حصہ نہیں بنیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جی ایچ کیو حملہ کیس؛ شیریں مزاری سمیت مزید 9 ملزمان پر فردجرم عائد
میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ آئین کوئی خفیہ دستاویز نہیں ہوتی، ہر شہری کا حق ہے کہ آئین میں ترامیم کے بارے میں آگاہ ہو۔ تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماو¿ں کو بھی آگاہ ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ ان ترامیم کا سربراہ کون ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کو پتا لگ چکا، ان کے لوگ انھیں چھوڑ کر بھاگ چکے، بک چکے ہیں: فیصل واوڈا
جمہوریت اور آئینی ترامیم
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسی جمہوریت نہیں ملے گی، جہاں پر جو بھی ڈکٹیٹر گزرے ہیں انہوں نے بھی ریفرنڈم کروایا۔ ایک ماہ سے ہنگامی صورتحال ہے اور آئینی ترامیم خفیہ طریقے سے لائی جارہی ہیں۔ ہم اس آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنیں گے اور زور زبردستی سے ہونے والی ترمیمات کا حصہ نہیں بنیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے 968 مقدمات سماعت کیلئے مقرر
مسودے کی شیئرنگ
اختر مینگل کا کہنا تھا کہ مسودہ مختلف اقساط میں شیئر ہورہا ہے۔ مشرف دور میں بھی گن پوائنٹ پر ہم نے مذاکرات نہیں کئے۔ ایسی کونسی ایمرجنسی ہے جس کی وجہ سے راتوں رات خفیہ ترمیم کی ضرورت پیش آئی؟ ایسی کونسی ترمیم ہے جسے عوام کے سامنے لانا حکمرانوں کے لئے باعث شرم ہے؟
یہ بھی پڑھیں: میچ کے دوران پاکستانی مداحوں کی جانب سے بابر اعظم کے خلاف جملے کسنے پر امام الحق شدید غصے میں آگئے
پارلیمنٹ کی صورتحال
سربراہ بی این پی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے کسی رکن کی کوئی حیثیت نہیں۔ قاسم بزنجو اور اس کا بیٹا گزشتہ 5 دن سے غائب ہیں۔ سید احسان شاہ کو پارلیمنٹ لاجز میں یرغمال بنا کر ان کی بیوی کو مجبور کیا جا رہا ہے۔ اب سب کے لئے وقت آگیا ہے کہ وہ راستہ اختیار کریں جو میں نے اختیار کیا۔
ووٹ کی عزت
ان کا کہنا تھا کہ کیا یہی ووٹ کی عزت ہے؟ ہمارے نمائندگان اغوا کئے جا رہے ہیں۔ میں اپنے ممبران سے اظہار یکجہتی کے لئے وطن آیا ہوں۔ آئینی ترامیم کے لئے مجھ سے رابطہ کیا گیا، میں نے کہا کہ میں استعفیٰ دے چکا ہوں، ہمارے ممبران واپس آنے تک ترامیم کا حصہ نہیں بنیں گے، چاہے جنت کا راستہ دکھایا جائے۔ 73 کا آئین ہمارے لئے کچھ نہیں کرسکا، 26ویں ترمیم کو بھی دیکھ لیں گے۔