امریکی صدر نے باضابطہ معافی مانگ لی
امریکی صدر جو بائیڈن کی معافی
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا میں 150 برس تک بچوں کو والدین سے جدا کرنے کے سنگین معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے ریاست ایری زونا میں مقامی امریکی انڈین کمیونٹی سے باضابطہ معافی مانگ لی۔
یہ بھی پڑھیں: 400 روپے ڈیلی الاؤنس ہماری بے عزتی ہے: قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کا شکوہ
تقریر کے دوران کی غلطیاں
81 برس کے جو بائیڈن تقریر کے دوران کمیونٹی کا نام لیتے ہوئے الفاظ بھول گئے تاہم کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں، وہ ٹھیک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن میں 50فیصد سے زائد ووٹ لینے والے امیدواروں کو کامیاب قرار دینے کی درخواست خارج ،درخواستگزار کو 20ہزار جرمانہ
تاریخی پس منظر
مقامی امریکی انڈین کمیونٹی کے بچوں کو والدین سے علیحدہ کرنے کا عمل 1800 سے 1970 تک جاری رکھا گیا تھا اور اسے عوام سے چھپایا گیا تھا۔
غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال
صدر بائیڈن کی تقریر کے دوران ایک خاتون نے غزہ اور مغربی کنارے میں جاری اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کے بھی نعرے لگائے۔ اس پر صدر بائیڈن نے کہا کہ وہاں بہت سے بے گناہ شہری مارے جا رہے ہیں اور یہ رکنا چاہئے۔








