آئینی ترمیم کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان نے یوٹرن لیا، لطیف کھوسہ
لطیف کھوسہ کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر حکومت کا ساتھ دے کر مولانا فضل الرحمان نے یوٹرن لیا۔
یہ بھی پڑھیں: لیڈرز “روبوٹ” کی مانند چل رہے ہیں، کھیل تماشا کب تک چلے گا۔۔۔؟ مظہر عباس نے ایک بڑی جماعت کی سیاست پر کئی سوالات اٹھا دیئے
مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حیثیت
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جس اسمبلی کو خود نہیں مانتے، اسی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں؟ انہیں اس آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا اور ہمارا مولانا فضل الرحمان سے گِلا بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریکارڈ کامیابیاں اور امید افزا اشارے، سعودی عرب نے وژن 2030 کی سالانہ رپورٹ جاری کردی
پارٹی کی قیادت کا معاملہ
لطیف کھوسہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے جیل سے باہر آنے تک پارٹی امور بشریٰ بی بی کے حوالے کیے جائیں اور بشریٰ بی بی یا علیمہ خان کو پارٹی کا فوکل پرسن بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو فوکل پرسن بنانے سے ابہام ختم ہوجائے گا۔
پارٹی کے اندر ابہام
کیونکہ اس وقت ابہام ہے کہ بیرسٹر گوہر کچھ اور سلمان اکرم راجہ کچھ کہہ رہے ہیں، جبکہ اسد قیصر اور عمر ایوب کچھ اور بیان دے رہے ہیں۔ رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی امریکہ کے صدارتی انتخابات کے بعد جیل سے باہر ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابات جیتنے کے امکانات روشن ہیں اور وہ صدر منتخب ہونے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کردار ادا کریں گے۔








