ارشد ندیم کو گھر جاکر انعامات دیئے، مجھے دفتر بلاکر ہی دے دیں، حیدر علی
حیدر علی کی پریشانی
لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے کامیاب ترین پیرا ایتھلیٹ حیدر علی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پیرالمپکس کو اولمپکس کے برابر ہی اہمیت دی جاتی ہے، پاکستان کیلئے پیرالمپکس میں 4 میڈلز جیتے لیکن وہ پذیرائی نہیں ملی جس کے وہ مستحق ہیں۔ ارشد ندیم کے تو گھر جاکر انعامات دیئے گئے تھے، مجھے دفتر بلاکر ہی دے دیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی فون صارفین کے لیے اچھی خبر، ایپل کا پاکستان میں آئی فونز بنانے کا فیصلہ
انعامات کی عدم مساوات
حیدر علی نے کہا کہ ارشد ندیم کو پالیسی سے بڑھ کر انعامات ملے اور مجھے پالیسی کے مطابق بھی نہیں، ارشد کو جو دیا اس کا تیسرا حصہ بھی مل جائے تو خوشی ہوگی۔ ان کی کامیابیوں کے پیچھے والدین اور فیملی کی مسلسل حمایت شامل ہے، جنہوں نے ہر قدم پر ساتھ دیا۔ پاکستان میں رہ کر عالمی سطح پر مقابلہ کرنا آسان نہیں، بلکہ اس کے لئے سخت محنت اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معمولی سی بات پر جھگڑے نے تین افراد کی جان لے لی
حیدر علی کی شاندار کارکردگی
حیدر علی نے بتایا کہ وہ واحد پاکستانی ایتھلیٹ ہیں جنہوں نے 5 پیرا لمپکس میں کوالیفائی کیا اور ان میں سے چار میں میڈلز جیتے۔ ان کے میڈلز میں 1 گولڈ (ٹوکیو)، 1 سلور (بیجنگ) اور 2 برانز (ریو اور پیرس) شامل ہیں۔ انہوں نے پیرا لمپکس، پیرا ایشین گیمز اور ورلڈ چیمپئن شپ سمیت ہر سطح پر پاکستان کے لئے میڈلز جیتے ہیں اور اب تک 19 میڈلز حاصل کر چکے ہیں، جس میں 9 گولڈ، 4 سلور، اور 6 برانز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹی کے ساتھ جو ہوا اس کا حساب اللہ لے گا، حمیرا اصغر کے والد کی میڈیا سے گفتگو
مالی مشکلات کا سامنا
حیدر علی نے بتایا کہ میڈلز جیتنے کے لئے محنت کے ساتھ ساتھ وسائل کی بھی ضرورت ہوتی ہے مگر پاکستان میں سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ واپڈا کے ملازم ہونے کے ناطے جو تنخواہ ملتی ہے، اس میں ٹریننگ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کسی کو بھی خوش نہیں کر سکتے، عادت، عادت ہے اسے کھڑکی سے باہر نہیں پھینک سکتے، اسے دور کرنے کیلئے قدم قدم زینہ طے کرنا ہو گا.
حکومتی مدد کی کمی
ان کے پاس نہ تو مناسب سپانسرشپ ہے اور نہ ہی حکومتی سپورٹ، جس کے باعث انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ پاکستان کی تاریخ کا بڑا المیہ ہے کہ لیاقت باغ میں 2 وزرائے اعظم کو مجمع عام میں شہید کیا گیا مگر آج تک قاتل بے نقاب نہ ہو سکے، سراج الحق
پیرا اولمپکس کی اہمیت
حیدر علی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر پیرا اولمپکس کو اولمپکس کے برابر اہمیت دی جاتی ہے اور دیگر ممالک اپنے پیرا ایتھلیٹس کو اولمپکس ایتھلیٹس کے برابر انعامات دیتے ہیں مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم اگلے لیول کے لیے بھی تیار ہیں” پاکستان کا اعلان، دنیا کو بھی خبردار کردیا
سابق وزیر اعظم کی حمایت
جب وہ ریو پیرالمپکس میں برانز میڈل جیت کر آئے تو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے انہیں انعام سے نوازا اور یہ واحد موقع تھا جب کسی وزیر اعظم نے انہیں بلایا مگر پیرس میں برانز میڈل جیتنے کے بعد وعدے کے باوجود ابھی تک انہیں کسی نے نہیں پوچھا۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کو دھمکی دینے والے ملزم کی گرفتاری و رہائی
وزیر اعظم یوتھ پروگرام کا وعدہ
جب وہ پیرس سے واپس آئے تو وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود نے اپنے دفتر بلاکر وعدہ کیا تھا کہ جلد وزیر اعظم سے ملاقات کروائیں گے اور انعام دلوائیں گے لیکن 2 ماہ گزر چکے ہیں اور کوئی جواب نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ آج کتنے بجے شروع ہو گا؟ صحیح وقت جانیے
دکھ اور مایوسی
حیدر علی نے کہا کہ انہیں دکھ ہوتا ہے کہ ان کی بےمثال کامیابیوں کے باوجود انہیں وہ عزت نہیں ملتی جس کے وہ حقدار ہیں۔ بھارت کے پلیئرز میڈل جیت کر آتے ہیں تو وزیر اعظم انہیں انعامات سے نوازتے ہیں، مگر پاکستان میں ایسا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ادھورا خواب
بین الاقوامی پیشکشیں
جب وہ بیجنگ میں ورلڈ ریکارڈ توڑ چکے تھے تو کئی ممالک نے انہیں اپنی طرف سے کھیلنے کی پیشکش کی مگر انہوں نے ہمیشہ اپنے ملک کے لئے کھیلنے کو ترجیح دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی عازمین حج کے لیے بائیو میٹرک مکمل کرنے کی حتمی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع کردی گئی
ارشد ندیم کا استقبال
حیدر علی نے ارشد ندیم کے شاندار استقبال کو دیکھ کر خوشی محسوس کی کیونکہ اسی گراؤنڈ پر انہوں نے بھی میڈل جیتا تھا۔ دل میں ایک خواہش تھی کہ شاید میرا بھی استقبال اسی طرح ہوگا۔
بحران کے باوجود مثبت سوچ
حیدر علی نے کہا کہ وہ ارشد ندیم کے انعامات سے خوش ہیں مگر انہیں اپنے حق کے مطابق پذیرائی نہیں ملی، ارشد ندیم کے تو گھر جاکر انعامات دیئے گئے تھے، مجھے دفتر بلاکر ہی دے دیں۔








