لاہور: سموگ کی شدت، فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ، سانس لینا دشوار
سموگ کی صورت حال
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور اور ملتان سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں سموگ کی شدت برقرار ہے، آلودہ فضا میں سانس لینا انسانی صحت کیلئے خطرناک بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں، بیرسٹر گوہر کا ردعمل بھی سامنے آگیا
لاہور کی آلودگی کی حقیقت
صوبائی دارالحکومت لاہور آلودگی کے اعتبار سے دنیا میں آج بھی پہلے نمبر پر براجمان ہے۔ گرین لاک ڈاؤن کے باوجود ایئر کوالٹی انڈیکس 700 سے تجاوز کر گیا ہے، شہر کے متعدد علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس 1000 سے بھی اوپر چلا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بہاولپور میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں ملی، صرف چار سال کی بچی بیڈ کے نیچے سے زندہ بچ گئی۔
ملتان کی فضائی آلودگی
اس کے علاوہ ملتان میں بھی فضائی آلودگی اس وقت خطرناک صورت حال اختیار کر چکی ہے اور شہر کے کئی علاقے شدید سموگ کی لپیٹ میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کے سی 130 فوجی کارگو طیارے کو حادثہ
صحت کے ماہرین کی تشخیص
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سموگ کے باعث آنکھوں اور گلے کے انفیکشن کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے، ایک ماہ میں ایک لاکھ سے زائد شہری متاثر ہوئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 10 روز سموگ کی صورت حال ایسے ہی رہے گی۔
محکمہ ماحولیات کی رپورٹ
محکمہ ماحولیات کے مطابق سموگ سے لاہور، شیخوپورہ اور ملتان سب سے زیادہ متاثر ہو چکے ہیں۔ نجی سکولوں میں تمام قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے، اساتذہ کی حاضری بھی آن لائن ہوگی، سکولوں کے تفریحی ٹرپ اور کھیلوں کی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد ہے.








