سابق چیف جسٹس پر لندن میں حملہ کرنے کے مقدمے میں نامزد خاتون کا مؤقف آگیا
دبئی میں سابق چیف جسٹس پر حملہ
دبئی (ویب ڈیسک) سابق چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پر لندن میں حملہ کرنے کے مقدمے میں شامل خاتون ماہین فیصل کا مؤقف سامنے آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: یہ ایک فاشسٹ حکومت ہے، منتخب اراکین کی تذلیل نہ صرف جمہوری اقدار کی نفی ہے بلکہ یہ ملکی سیاسی تاریخ کا ایک سیاہ باب بھی ہے، اسد قیصر
ماہین فیصل کا مؤقف
جیونیوز کے مطابق اپنے ویڈیو بیان میں ماہین فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایف آئی اے نے مجھ پر ہتک عزت کا مقدمہ غلط قائم کیا ہے، جس دن یہ واقعہ پیش آیا میں لندن میں ہی نہیں تھی، ڈیڑھ برس قبل شادی کرکے دبئی منتقل ہوچکی ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: 15 سال کی تھی جب ٹرمپ نے زیادتی کی کوشش کی، نئی ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر پر خاتون سے زیادتی کا الزام
حملے کا تعلق
ماہین فیصل کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی پر حملے سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان میں میرے دور کے رشتہ داروں کو بھی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، ان کے دروازوں پر میرے نام کے نوٹس چپکائے جاتے ہیں۔
مذمت اور درخواست
ماہین فیصل کا کہنا تھا کہ میں ایسے واقعے کی مذمت کرتی ہوں، کبھی نہیں چاہوں گی کہ میرے ملک کی بدنامی ہو۔ میری اپیل ہے کہ میرے خلاف کیس کو ختم کردیا جائے۔








