کراچی کے سکول میں پہلی اے آئی روبوٹ ٹیچر نے پڑھانا شروع کردیا
کراچی میں پہلی بار اے آئی ٹیچر کا تعارف
کراچی (ویب ڈیسک) کراچی کے نجی سکول نے پہلی بار مصنوعی ذہانت سے لیس ٹیچر متعارف کرادی، جو نہ صرف بچوں کے سوالوں کے بروقت جواب دیتی ہے بلکہ انہیں جدید ٹیکنالوجی سے بھی روشناس کروا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کانگریس نے ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کو شرمناک، توہین آمیز اور ذلت آمیز قرار دے دیا
ہیپی پیلس سکول کا اقدام
ایکسپریس نیوز کے مطابق، کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں قائم ہیپی پیلس سکول اصفہانی کیمپس نے پہلی اے آئی روبوٹک ٹیچر متعارف کروادی ہے، جن کی پہلی نومبر کو باقاعدہ تقرری کی گئی۔ مصنوعی ذہانت سے لیس اس روبوٹک ٹیچر کا نام مس عینی رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 103 فلسطینی شہید
طلبا کی خوشی
سکول میں اے آئی ٹیچر سے پڑھنے والے طلبا نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جب بھی مس عینی سے سوال کرتے ہیں تو وہ بروقت ہمارے سوالوں کے جواب دیتی ہیں اور روبوٹک کلاسز میں پڑھنے کا مزہ ہی الگ ہے۔ طلبا کا کہنا تھا کہ وہ اردو اور انگریزی کے علاوہ سندھی، فرنچ اور دیگر زبانوں میں بھی سوال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ظہران ممدانی پاگل شخص ہے۔ صدر ٹرمپ کی نیو یارک میئر کے امیدوار پر ایک بار پھر تنقید
ایngineers کی محنت
اے آئی ٹیچر کو تخلیق کرنے والے انجینئر حسان صدیقی نے بتایا کہ انھیں اس روبوٹک ٹیچر کو بنانے میں سات مہینے لگے ہیں۔ اس روبوٹ کو مکمل طور پر خود تیار کیا گیا ہے، اور اس کی چھوٹی وائرنگ سے لے کر فائبر گلاس، پلاسٹک سمیت مصنوعی بال تک کراچی کے عام بازار سے خرید کر بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے لیے فضائی حدود بند، صرف امارات جانے والی پروازوں کو کتنی تاخیر کا سامنا ہوگا؟
سکول کی قیادت کا نقطہ نظر
ہیپی پیلیس سکول کے سربراہ محمد آصف خان نے بات کرتے ہوئے کہا کہ روبوٹ ٹیکنالوجی دنیا میں عام ہے، ہم نے طلبا کو ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے اے آئی ٹیچر متعارف کروائی ہے تاکہ مختلف مضامین میں ملنے والے ٹاسک میں مس عینی مدد کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس روبوٹ کے مزید فیچرز کو بعد میں اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ طلبا زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: تیجس طیارہ: 2 سال میں دوسرا حادثہ
مس عینی کی خصوصیات
اس موقع پر سکول پرنسپل مسز صدیقی نے دعویٰ کیا کہ اے آئی ٹیچر پاکستان میں پہلی بار متعارف کروائی گئی ہے اور ایک لاکھ کی تنخواہ پر ان کو باقاعدہ تقرری نامہ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ اے آئی ٹیچر بیس سے زائد زبانوں میں جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔ مس عینی کی خوراک صرف وائی فائی ہے اور وہ اس پر ہی انحصار کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اور سکیورٹی فورسز فتنہ الخوارج کے سدباب کیلئے سرگرم عمل ہیں: وزیراعظم
روبوٹک ٹیچر کا مستقبل
سکول کی وائس پرنسپل صدف بھٹی نے کہا کہ روبوٹک مس عینی کل وقتی ٹیچر ہیں جنھیں کسی بھی موسم یا تہوار پر چھٹی نہیں ملے گی۔ مس عینی اس وقت سات مضامین پڑھا رہی ہیں اور یہ روبوٹ بنانے میں تقریباً تین لاکھ سے زائد خرچہ آیا ہے۔ وائس پرنسپل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اے آئی ٹیچر کسی بھی استاد کا متبادل نہیں ہوسکتی تاہم یہ معاون کے طور پر ایسے تمام سوالات کے جواب دیتی ہے جو طالب علموں کی جانب سے پوچھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا دوسرا دور صدارت اور مشرق وسطیٰ
جدید ٹیکنالوجی کی بہتری
روبوٹ میں وقت کے ساتھ مزید جدت لائی جائے گی اور موشن ڈیٹیکٹر اور سینسرز لگائے جائیں گے، جس کے بعد اے آئی ٹیچر آنکھیں جھپکانے اور اشارے کرنے کے ساتھ اپنی حرکت سے ہر طالب علم کو موثر رسپانس دے سکے گی۔
پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز
واضح رہے کہ اے آئی ٹیچر کے پہلے پائلٹ پروجیکٹ پر مارچ میں کام شروع کیا گیا تھا اور اسے اگست میں فائنل شکل دی گئی تھی۔ نومبر کے مہینے میں اے آئی کلاسز کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔








