حملے کی صورت میں ایک دوسرے کی فوجی مدد کریں گے: روس اور شمالی کوریا میں اہم دفاعی معاہدے پر عمل شروع ہوگیا
تاریخی دفاعی معاہدہ
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) شمالی کوریا اور روس کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ دستاویزات کے تبادلے کے بعد نافذ ہو گیا ہے۔ اس معاہدے پر روسی صدر اور ان کے شمالی کورین ہم منصب نے جون میں دستخط کیے تھے۔ کم جونگ ان اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے یہ سٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ کریملن کے سربراہ کے دورہ پیانگ یانگ کے دوران کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: Security Concerns: Section 144 Imposed in Khyber District for One Month
معاہدے کا پس منظر
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق اس معاہدے کے باضابطہ نفاذ کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور جنوبی کوریا نے جوہری ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی مدد کے لیے 10 ہزار سے زائد فوجی بھیجے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہم تاریخ سے ایک بات ہی سیکھتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں سیکھتے، دھبوں میں اضافہ کرتے ہیں مٹاتے نہیں ایک عدالت روز محشر بھی لگنی ہے جہاں کڑا انصاف ہو گا
ماہرین کی رائے
العربیہ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن ماسکو سے جدید ٹیکنالوجی اور اپنی فوج کے لیے جنگی تجربہ حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کو پابند کرتا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ "بلا تاخیر" فوجی مدد فراہم کریں اور مغربی پابندیوں کی مشترکہ مخالفت کریں۔
یہ بھی پڑھیں: معروف پاکستانی اداکارہ کے ہاں شادی کے سات سال بعد پہلے بچے کی آمد متوقع
دستاویزات کا تبادلہ
یہ معاہدہ بدھ کے روز اس وقت نافذ العمل ہو گیا جب دونوں ممالک کے نائب وزرائے خارجہ کم جونگ گیو اور آندرے رودینکو نے ماسکو میں دستاویزات کا تبادلہ کیا۔ ماسکو میں قانون سازوں نے گزشتہ ماہ اس معاہدے کے حق میں متفقہ ووٹ دیا تھا، جس کے بعد اس پر صدر پیوٹن نے دستخط کیے تھے۔ پیانگ یانگ نے کہا کہ یہ کم جونگ اُن کے ایک حکم کے ذریعے توثیق شدہ ہے۔
عالمی نظام پر اثرات
کے سی این اے کے مطابق یہ معاہدہ ایک خود مختار اور منصفانہ کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام کو تیز کرنے میں ایک مضبوط محرک کے طور پر کام کرے گا، جو غلبے، اطاعت اور بالادستی سے آزاد ہوگا۔








