شامی باغیوں کا دارالحکومت میں داخل ہونے کا دعویٰ، بشارالاسد دمشق سے نکل گئے
شامی باغیوں کا دارالحکومت دمشق میں داخل ہونے کا دعویٰ
دمشق (ڈیلی پاکستان آن لائن) شامی باغیوں نے دارالحکومت دمشق میں داخل ہونے کا دعویٰ کردیا، شامی صدر بشارالاسد بھی دمشق چھوڑ کر نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر کی گاڑی راستے میں بند، ٹیکسی میں سفر کرنا پڑ گیا
بشار الاسد کی حفاظت میں تبدیلیاں
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بشارالاسد کے صدارتی محافظ بھی ان کی معمول کی رہائش گاہ پر تعینات نہیں ہیں جس کے باعث ان قیاس آرائیاں کو تقویت ملتی ہے کہ بشار الاسد فرار ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آج کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی، اداروں اور سیاسی قیادت کا ایک دوسرے کو ذہنی مریض کہنا افسوسناک ہے، بیرسٹر گوہر
حمص شہر پر باغیوں کا کنٹرول
غیر ملکی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ شامی جنگجوؤں نے شام کے شہر حمص پر مکمل کنٹرول کا اعلان کیا ہے، جبکہ سینٹرل جیل پر قبضہ کر کے 3500 قیدیوں کو بھی رہا کردیا۔ باغیوں نے صدر بشار الاسد کے پورٹریٹ پھاڑ دیئے جبکہ بشار الاسد کے والد کا مجسمہ بھی گرا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: گیلانی خاندان کے سجادہ نشین کی سفارش پر ملتان کے گورنر عنایت اللہ خاں نے وسیع جاگیر عطا کی، اسی علاقہ میں نئے شہر ”الہٰ آباد“ کی بنیاد رکھی
شامی کردوں کی کامیابی
میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی کردوں نے دیرالزور کا کنٹرول سنبھال کر اپنا جھنڈا لہرا دیا اور صدر بشار الاسد کی فوج کو شہر چھوڑنے پر مجبور کیا، سیکڑوں فوجیوں اور سرکاری افسران نے عراق میں پناہ لے لی۔
بغاوت کا مقصد اور مستقبل
دوسری جانب جنگجو لیڈر محمد الجولانی نے کہا ہے کہ شام میں حالیہ بغاوت کا مقصد صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرانا ہے، شامی حکومت کا خاتمہ قریب ہے، ہتھیار پھینکنے والے سرکاری فوجیوں کو عام معافی دی جائے گی۔








