پی ٹی آئی اور حکومت میں آج مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں: صاحبزادہ حامد رضا
اسلام آباد میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ کی گفتگو
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ کو فوج کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جانیں اور ان کا نظام جانے، عمران خان ملٹری کورٹ میں نہیں جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: قاسم اور سلمان میزائل ہیں تو یہ رافیل ہیں،عمران خان کے بچوں کو میزائل کہنے پرفیصل چوہدری کا دوبدو جواب
مذاکرات کا مینڈیٹ
ڈان نیوز کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ پی ٹی آئی کی 5 رکنی کمیٹی کے پاس مذاکرات کا مینڈیٹ ہے، جو بھی ہمارے ساتھ مذاکرات کرنا چاہے وہ رابطہ کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 24 اور 26 نومبر احتجاج کیس: بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع
مذاکرات کی پیش رفت
انہوں نے کہا کہ جہاں تک مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت کی بات ہے تو امید ہے آج اجلاس ہوگا۔ حکومت پہلے بھی کوئی قابل عمل چیز لے کر آتی تو ہم اس پر بات کرنے کو تیار تھے، اب بھی تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ رخ کی بدتمیزیوں پر ان کی اہلیہ کا رویہ کیسا ہوتا ہے؟ سپر سٹار نے خود بتادیا
حکومت سے رابطہ
اس سوال پر کہ حکومت کی جانب سے کوئی رابطہ کیا گیا ہے؟ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ کچھ چیزیں امانت ہوتی ہیں، اس کا جواب عمر ایوب خان دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمان کے اندر تمام پارلیمانی پارٹیوں سے رابطہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف یوٹیوبر عمار خان یاسر کے ساتھ سکیمرز کی فراڈ کی کوشش، حیران کن انکشاف کر دیا
فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ
انہوں نے کہا کہ خون ناحق بولتا ہے یہ قدرت کا قانون ہے۔ کل وزیر دفاع کی تقریر میں الفاظ ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ فوج جانے ان کا اندرونی نظام جانے، عمران خان ملٹری کورٹ میں نہیں جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے والے کو جیل میں عمران خان کی طرح سہولیات فراہم کی جائیں، علیمہ خان
سیاست کی بنیاد اور سول نافرمانی
صاحبزادہ حامد رضا نے پیسوں اور رشوت کی سیاست کی بنیاد ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ انہوں نے سول نافرمانی تحریک کی سوچ سے بڑھ کر کامیابی کا دعویٰ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے 20 سب سے زیادہ پسماندہ اضلاع کی فہرست جاری
عمر ایوب کی باتیں
دریں اثنا، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کے پاس ذاتی حملوں کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوتی۔ حکومت نے گولی چلانے کے سوال پر کوئی جواب نہیں دیا۔ ہمارے شہدا کا خون شہباز شریف پر ہے اور وہی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلوے کا سفر 244 ٹرینوں سے 104 تک کیسے پہنچا، سیکرٹری ریلوے کا بڑا انکشاف
شاہ محمود قریشی اور دیگر رہنماں کی رہائی کا مطالبہ
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی اور دیگر رہنماؤں کو رہا کیا جائے، جبکہ 9 مئی اور 24 نومبر کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ عمر ایوب نے دعویٰ کیا کہ ہمارے 12 کارکن جاں بحق ہوئے جبکہ 200 سے زائد لاپتہ ہیں۔ نیٹو فورسز کی جانب سے دیے گئے ہتھیار ڈی چوک پر استعمال ہوئے۔
پی ٹی آئی کارکنان کی حالت
ہمارے پی ٹی آئی کارکنان کے پاس کھانا پانی سب موجود تھا، شیلنگ اور فائرنگ کے دوران کھانا دینا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور اور مجھ سمیت سب پر کئی بار جان لیوا حملے ہوئے، ہم لوگ ڈی چوک خالی ہونے کے بعد یہاں سے نکلے تھے۔








