پی ٹی آئی اور حکومت میں آج مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں: صاحبزادہ حامد رضا
اسلام آباد میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ کی گفتگو
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ کو فوج کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جانیں اور ان کا نظام جانے، عمران خان ملٹری کورٹ میں نہیں جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد خلیج فارس میں جہاز پر پھنسے پاکستانی ورکر کے والد نے حکومت پاکستان سے مدد کی اپیل کردی۔
مذاکرات کا مینڈیٹ
ڈان نیوز کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ پی ٹی آئی کی 5 رکنی کمیٹی کے پاس مذاکرات کا مینڈیٹ ہے، جو بھی ہمارے ساتھ مذاکرات کرنا چاہے وہ رابطہ کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کابینہ نے کراچی میں رینجرز کی تعیناتی مزید ایک سال کیلئے بڑھانے کی منظوری دیدی
مذاکرات کی پیش رفت
انہوں نے کہا کہ جہاں تک مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت کی بات ہے تو امید ہے آج اجلاس ہوگا۔ حکومت پہلے بھی کوئی قابل عمل چیز لے کر آتی تو ہم اس پر بات کرنے کو تیار تھے، اب بھی تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 2 بچوں کو قتل کرنے والی ماں 3روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
حکومت سے رابطہ
اس سوال پر کہ حکومت کی جانب سے کوئی رابطہ کیا گیا ہے؟ سربراہ سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ کچھ چیزیں امانت ہوتی ہیں، اس کا جواب عمر ایوب خان دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمان کے اندر تمام پارلیمانی پارٹیوں سے رابطہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے سندھ کو یرغمال بنایا ہوا ہے، ہمیں قبضے کا یہ نظام ختم کرنا ہوگا، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان
فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ
انہوں نے کہا کہ خون ناحق بولتا ہے یہ قدرت کا قانون ہے۔ کل وزیر دفاع کی تقریر میں الفاظ ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ فوج جانے ان کا اندرونی نظام جانے، عمران خان ملٹری کورٹ میں نہیں جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ، بھارتی کرکٹ بورڈ کا رد عمل بھی آ گیا
سیاست کی بنیاد اور سول نافرمانی
صاحبزادہ حامد رضا نے پیسوں اور رشوت کی سیاست کی بنیاد ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ انہوں نے سول نافرمانی تحریک کی سوچ سے بڑھ کر کامیابی کا دعویٰ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: فریال گوہر اور جمال شاہ نے 30 سال بعد پہلی بار طلاق کی اصل وجہ بتا دی
عمر ایوب کی باتیں
دریں اثنا، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کے پاس ذاتی حملوں کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوتی۔ حکومت نے گولی چلانے کے سوال پر کوئی جواب نہیں دیا۔ ہمارے شہدا کا خون شہباز شریف پر ہے اور وہی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ دار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہم روکھی سوکھی کھاکر گزارہ کر لیں گے لیکن خوددار قوم کی حیثیت سے اپنی آزادی اور سلامتی کے تحفظ کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے
شاہ محمود قریشی اور دیگر رہنماں کی رہائی کا مطالبہ
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی اور دیگر رہنماؤں کو رہا کیا جائے، جبکہ 9 مئی اور 24 نومبر کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ عمر ایوب نے دعویٰ کیا کہ ہمارے 12 کارکن جاں بحق ہوئے جبکہ 200 سے زائد لاپتہ ہیں۔ نیٹو فورسز کی جانب سے دیے گئے ہتھیار ڈی چوک پر استعمال ہوئے۔
پی ٹی آئی کارکنان کی حالت
ہمارے پی ٹی آئی کارکنان کے پاس کھانا پانی سب موجود تھا، شیلنگ اور فائرنگ کے دوران کھانا دینا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور اور مجھ سمیت سب پر کئی بار جان لیوا حملے ہوئے، ہم لوگ ڈی چوک خالی ہونے کے بعد یہاں سے نکلے تھے۔








