سیستان میں قتل ہونیوالے مزدور جمشید کے گھر خبر پہنچنے پر کہرام برپا
مزدوروں کا بہیمانہ قتل
احمد پور شرقیہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے مغربی صوبے سیستان و بلوچستان میں آٹھ پاکستانی مزدوروں کے بہیمانہ قتل کے واقعے میں احمد پور شرقیہ سے تعلق رکھنے والے محمد جمشید بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں 71 کلوگرام منشیات وصول کرتے ہوئے 6 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا
گھر میں کہرام
محمد جمشید کے جاں بحق ہونے کی اطلاع جب اُن کے آبائی علاقے میں پہنچی تو گھر میں کہرام مچ گیا، والدہ غم سے نڈھال ہو گئیں جبکہ بھائی اور دیگر اہلخانہ بھی شدتِ صدمہ سے بےحال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گھر کی تعمیر میں دوستوں سے فی کس 5 ہزار روپے لیے کہ واپس نہیں کرونگا، یہ دوستوں کی طرف سے عطیہ تھا، سچ ہے گھر اور بیٹی کی شادی پر اللہ مدد کرتا ہے۔
خاندان کا کفیل
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق جمشید کے بھائی نے بتایا کہ وہ گھر کا واحد کفیل تھا اور ڈیڑھ سال بعد وطن واپس آنے والا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بھائی نے بوڑھی ماں، بیوی اور چھوٹے بچوں کا سہارا بن کر زندگی گزاری، لیکن ظالموں نے اُسے بے رحمی سے مار ڈالا۔‘
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بازؤوں اور ٹانگوں سے محروم آرٹسٹ کو تقرری کا لیٹر د یدیا ، گھر کے باہر سڑک بنوانے کا حکم بھی جاری
والدہ کا دکھ
مرحوم کی والدہ نے روتے ہوئے بتایا، ’میرا غریب بیٹا چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر گیا ہے، وہ ہمیں سہارا دینے گیا تھا، لیکن کفن میں لپٹ کر لوٹے گا۔‘
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی کیس: پی ٹی آئی کے 8 کارکن اشتہاری قرار
اہل خانہ کا مطالبہ
اہلخانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جمشید سمیت تمام مقتولین کی لاشیں جلد از جلد وطن واپس لائی جائیں تاکہ ان کی تدفین کا عمل مکمل ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاخیر سے اہلِ خانہ کا غم مزید بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2 جون کو بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ لیکن تنخواہوں میں کتنا اضافہ متوقع ہے؟ سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری آگئی۔
خونی واقعہ کی تفصیلات
یاد رہے کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ مہرستان کے نواحی گاؤں ہیزآباد پایین میں پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ایک آٹو ورکشاپ پر دھاوا بول کر آٹھ پاکستانی مزدوروں کو ہاتھ پاؤں باندھ کر گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ ایرانی حکام نے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ پاکستان نے لاشوں کی واپسی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
لاشوں کی واپسی کا عمل
دفتر خارجہ کے مطابق، لاشوں کی واپسی میں آٹھ سے دس دن لگ سکتے ہیں کیونکہ جائے وقوعہ دور دراز علاقہ ہے اور فارنزک تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔ ایرانی حکام نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی سفارتخانے سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے。








