پنجاب پولیس کے ایس ایچ او کو افسران کو اپنی غلط پوزیشن بتانا مہنگا پڑ گیا
لاہور میں ایس ایچ او کی غلط رپورٹنگ
لاہور ( آئی این پی) لاہور میں سٹیشن ہائوس آفیسر (ایس ایچ او) کو افسران کو غلط پوزیشن بتانا مہنگا پڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گولیوں کے چلنے کی آوازیں آتیں، بے سروسامانی کے جِن نے کان میں پھونک ماری ’’ارے پگلے تو بھی آگے بڑھ کر سامان سمیٹ تیرا بھی حصّہ بنتا ہے‘‘
ایس ایچ او کی غلط معلومات
پولیس ذرائع کے مطابق، ایس ایچ او گڑھی شاہو، حمزہ نواز بھٹی، وائرلیس کے ذریعے افسران کو غلط پوزیشن سے آگاہ کرتا رہا۔ ایس ایچ او گڑھی شاہو کی ڈیوٹی مادھو لال حسین دربار پر لگائی گئی تھی، تاہم وہ وہاں نہیں پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی وفاق اور پنجاب حکومتوں میں شامل ہوسکتی ہے، خواجہ آصف کی ’’سیاسی کیلکولیشن‘‘
ایس پی کا تلاش کا عمل
ایس پی سول لائن ڈویژن، ڈاکٹر عبدالحنان، ایس ایچ او گڑھی شاہو کو 2 گھنٹے تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ وائرلس سیٹ اور موبائل فون کے ذریعے رابطہ بھی کرتے رہے۔
ڈی آئی جی کی مداخلت اور معطلی
ایس پی سول لائن نے ڈی آئی جی اپریشنز لاہور، محمد فیصل کامران، سے رابطہ کرکے صورتحال سے آگاہ کیا۔ ڈی آئی جی اپریشنز لاہور نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایچ او گڑھی شاہو، حمزہ نواز بھٹی، کو معطل کر کے پولیس لائن رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کئے۔








