ڈرگ کارٹل کے تربیتی کیمپ میں شوٹرز سے انسانی دل چبھوائے جانے کا انکشاف، ٹریننگ کیسے دی جاتی ہے؟ دل دہلا دینے والے انکشافات

میکسیکو میں ڈرگ کارٹلز کی ہولناک حقیقت

میکسیکو سٹی (ڈیلی پاکستان آن لائن) میکسیکو کے پہاڑی علاقوں میں چھپے ڈرگ کارٹلز کے تربیتی کیمپوں کی ہولناک حقیقت سامنے آئی ہے جہاں نو عمر لڑکوں کو قاتل بننے کی تربیت دی جاتی ہے اور بعض اوقات انہیں اپنے شکار کا دل چبانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑی اب چپ چاپ گزر جاتی تھی، سیٹی بھی بجاتی ہو گی لیکن گاؤں کی حد تک سنائی نہیں دیتی، چند مسافروں کا کچھ لین دین ہوتا پھر وہی کھیل شروع ہو جاتا

مونیکا رامیرز کانو کی کتاب کا انکشاف

دی مرر کے مطابق، اس جیسے کئی واقعات کا انکشاف معروف ماہر نفسیات مونیکا رامیرز کانو کی کتاب Las Puertas del Infierno (دوزخ کے دروازے) میں کیا گیا ہے۔ ایک 13 سالہ لڑکے، پیدرو نے انکشاف کیا کہ وہ ساؤتھ ویسٹ میکسیکو کے علاقے سیرا دے گوریرو میں ایک کارٹل سے اس وقت رابطے میں آیا جب اس کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ اپنے دادا دادی کے ساتھ رہ رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: غیر قانونی طور پر مقیم مزید 4 ہزار سے زائد افغان باشندوں کو واپس بھیج دیا گیا

پہلا رابطہ اور تربیت کی شروعات

کارٹل کے افراد نے اسے پیسوں کا لالچ دے کر بھرتی کیا اور پہاڑوں میں لے جا کر بندوق دی اور تربیت شروع کردی۔ پیدرو کے مطابق "وہ آپ کو سکھاتے ہیں کہ خوف کے بغیر کیسے مارنا ہے، اور یہاں تک کہ انسانی گوشت کھانے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔"

یہ بھی پڑھیں: ایران اور اسرائیل کی کشیدہ صورتحال پر چینی صدر کا روسی ہم منصب سے اہم رابطہ

تربیتی دورانیہ اور نتائج

تین ماہ کے اس تربیتی پیریڈ کا نگران ایک سابق فوجی تھا۔ پیدرو نے بتایا کہ "ہمیں پستولیں دی گئیں اور کہا گیا کہ صرف ایک بچے گا۔ میں نے اپنے سوتیلے بھائی کو مارا۔ کچھ ہی عرصے میں وہ مکمل تربیت یافتہ قاتل بن چکا تھا اور درجنوں افراد کا قاتل بننے کے بعد ایک علاقے کا ’پلازا چیف‘ یعنی کارٹل کا مقامی سربراہ بن گیا۔"

یہ بھی پڑھیں: پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا: وزیر اعظم سے ایرانی وفد کی ملاقات کے بعد اعلامیہ جاری(ویڈیو بھی دیکھیں)

قتل کے عوض انعامات

پیدرو نے مزید بتایا کہ اسے ہر قتل پر الگ رقم دی جاتی تھی اور بطور پلازا چیف اسے ماہانہ 25 ہزار پیسوس ملتے تھے، ساتھ ہی ہر قتل پر 12 ہزار پیسوس اضافی ملتے تھے۔ اس نے کہا کہ ایک موقع پر جب وہ رائفل جلدی نہ جوڑ سکا تو اسے تاروں سے مارا گیا۔ "ہم دس لڑکے تھے، جنہیں بیک وقت تین ماہ تک تربیت دی جاتی تھی، زیادہ تر نو عمر لڑکوں کو قاتل بنانے کے لیے بھرتی کیا جاتا تھا۔"

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے 50 ممالک کے لیے ویزا قوانین مزید سخت کردیئے۔

بھائی کا قتل اور جسمانی اذیت

پیدرو کا کہنا تھا کہ اسے بچپن سے ہی منشیات کی لت لگ چکی تھی اور اس کا پہلا قتل اس کا اپنا بھائی تھا۔ اس نے یہ بھی بیان کیا کہ کارٹل کا ایک اعلیٰ عہدیدار اکثر قیدیوں کو اذیت دے کر ان کے جسم کے حصے کھاتا تھا اور نوجوانوں کو مجبور کرتا تھا کہ وہ شکار کے دل کو کاٹیں۔

زندہ دل چبانے کی تکلیف

پیدرو نے کہا "ہمیں زندہ دل چبانے پر مجبور کیا جاتا تھا، اگر انکار کرتے تو وہ ہمیں مار دیتا۔ مجھے بس دل میں دانت مارنے تھے۔ یہ کچا کھایا جاتا تھا، ذائقہ بہت برا ہوتا تھا۔"

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...