ڈیزل انجن کے برعکس بھاپ کے انجن کا رعب اور دبدبہ کچھ اور ہی تھا، بڑے بھی پاس جانے سے گھبراتے تھے اور بچے تو دور سے ہی دیکھ کر ڈر جاتے تھے۔

مصنف کا تعارف

مصنف: محمد سعید جاوید

یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور بھارت کے درمیان 10 سالہ دفاعی معاہدہ طے پا گیا

کتاب کی خصوصیات

قسط: 105
ٹائم ٹیبل اور کرایہ نامہ کے ساتھ ساتھ اس میں جو سب سے دلنشیں بات ہوتی تھی وہ یہ کہ اس میں نہ صرف ڈائیننگ کار کے کھانے کا ذکر ہوتا تھا بلکہ کئی صفحوں پر محیط اس کی تفصیل بھی خوب مزے لے لے کر اس طرح بیان کی جاتی تھی کہ پڑھ کر منھ میں پانی آجاتا تھا۔ تاہم ان کے سامنے لکھی ہوئی قیمتیں دیکھ کر وہ پانی واپس بھی چلا جاتا تھا، کیونکہ ڈائیننگ کار میں بنوائے گئے کسی بھی کھانے کی قیمت کم از کم 4 روپے ہوتی تھی، تاہم اس کتاب میں میرا تو سب سے پسندیدہ باب ہی وہ ہوتا تھا جو اشتہا بڑھا دیتا تھا۔ اچھے اچھے کھانوں کے بارے میں سوچ کر میں ڈائیننگ کار سے کھانے کی عام سی ٹرے منگوا لیتا تھا کیونکہ ایک وہی اپنی پہنچ میں ہوتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیر اعظم کا دورۂ منی پور، خواتین اور طلباء کا شدید احتجاج، ’’مودی واپس جاؤ‘‘ کے نعرے لگ گئے

کتاب کی اقسام

اس کتاب میں اشتہاروں اور محکمانہ ہدایات کہ بھر مار ہوتی تھی۔ تفریح طبع کے لیے ایک دو اچھے مضامین بھی شامل کر دئیے جاتے تھے۔ تاہم بنیادی طور پر یہ ایک معلوماتی کتابچہ ہی ہوتا تھا۔ یہ چھ مہینے بعد اس وقت چھپتا تھا جب موسم کے لحاظ سے گاڑیوں کے اوقات تبدیل ہوتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جواد احمد کی حکومت آئی تو میں مزدور بنوں گی” ایکس صارف خاتون کا جواد احمد کے بیان پر دلچسپ تبصرہ

جدید دور کا جائزہ

زمانہ جدید میں یہ جریدہ اب پاکستان ریلوے کی ائیر بک کے نام سے نکلتا ہے لیکن اب اس میں محکمے والوں نے اپنی ہی ڈینگیں ماری ہوئی ہوتی ہیں اور اس میں وہ قورمے، بریانی اور فیرنی کی چاشنی کہاں۔ یہاں تو اب نمبروں اور حساب کتاب کی کہانیاں ہی نظر آتی ہیں جو عام مسافر کے تو سر کے اوپر سے ہی گزر جاتی ہیں۔ زیادتی کی انتہا یہ کہ اس میں سے کھانے کی تفصیل والا باب ہی غائب کر دیا گیا ہے جو کبھی کبھی مسافروں کو لبھایا کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں لڑکی سے ملنے آئی آشنا کے پکڑے جانے پر ساتھیوں کی فائرنگ سے لڑکی ہی زخمی ہوگئی

پلیٹ فارم کی مصروفیات

قصہ کوتاہ، اب ہم دوبارہ پلیٹ فارم کا رخ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہاں اور کیا کچھ ہو رہا ہے۔ گاڑی رکنے پر کچھ خوفزدہ سے مسافر تو نیچے ڈبے کے دروازے کے ساتھ ہی لگ کر کھڑے ہوجاتے ہیں، انھیں ہر لمحے یہ دھڑکا لگا رہتا ہے اگر وہ یہاں سے ہٹ کر ذرا سا بھی ادھر اْدھر ہوئے تو کہیں گاڑی انھیں چھوڑ کر نکل ہی نہ جائے۔ البتہ جی دار لوگ تو پلیٹ فارم پرچہل قدمی کرتے ہوئے بغیر کسی وجہ کے انجن یا گاڑی کے سب سے آخری ڈبے تک جا کر واپس آجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف نے معیشت کے بارے میں بڑا فیصلہ لے لیا

ماضی کے انجن کا دلچسپ ذکر

آج کل کے ڈیزل انجن کے برعکس، جب بھاپ کے انجن چلتے تھے تو اس کا رعب اور دبدبہ کچھ اور ہی ہوتا تھا۔ بڑے بھی اس کے پاس جانے سے گھبراتے تھے اور بچے تو اسے دور سے ہی دیکھ کر باقاعدہ ڈر جاتے تھے۔ میرا چھوٹا بھائی تو اس کو دیکھ کر اس قدر خوفزدہ ہو گیا تھا کہ وہ بیت الخلا میں جا کر چھپ گیا اور بڑی تگ و دو کے بعد اس کو وہاں سے برآمد کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس؛ بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور، سماعت 18 نومبر تک ملتوی

نئی نسل کی مہم جوئی

تاہم جو بہادر بچے باپ کا ہاتھ پکڑے وہاں تک پہنچ جاتے تو ان کو انجن والے بابا جی اور ان کے فائرمین سے، جو اس وقت کوئلے کی کالک سے بھوت بنے ہوتے تھے، ضرور ملوایا جاتا تھا۔

روانگی کا وقت

اس سے پہلے کہ انجن سیٹی بجا کر روانگی کا عندیہ دے، پلیٹ فارم پر ٹہلتے ہوئے لوگ تیز تیز قدموں سے اپنے ڈبوں میں واپس آجاتے۔ کچھ من چلے تو آخری وقت تک پلیٹ فارم پر چہل قدمی کرتے رہتے حتیٰ کہ گاڑی چل پڑتی اور وہ اس کے ساتھ ساتھ ہی دوڑتے ہوئے چھلانگ لگا کر اپنے ڈبے میں سوار ہوجاتے۔ پتہ نہیں وہ اپنی اس شوخی سے کس کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں ۔

(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...