زبان صاف کرنے کی عادت کا بڑا نقصان سامنے آگیا، ماہرین نے خبردار کردیا
زبان صاف کرنے کی عادت اور دل کی صحت
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) زبان صاف کرنے کی صدیوں پرانی عادت اگرچہ منہ کی صفائی کے لیے مفید سمجھی جاتی ہے، مگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل سے دل کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر اگر یہ زیادہ یا غلط طریقے سے کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پر سندھ میں نیا بحران، اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
طبی خطرات کا امکان
فوکس نیوز کے مطابق زبان پر موجود بیکٹیریا اور میل کو ختم کرنے کے لیے زبان صاف کرنے والے آلے کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ ممکنہ طبی خطرات پر بھی تحقیق ہو رہی ہے۔ ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر بریڈلی سرور نے بتایا کہ زبان کو زیادہ زور سے یا بار بار صاف کرنا زبان پر معمولی زخم یا کٹ لگا سکتا ہے، جس سے بیکٹیریا خون میں داخل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ میٹر منصوبے میں 6.5 ارب روپے کی کرپشن، لیسکو، گیپکو، میپکو اور فیسکو نے ایف آئی اے کو ریکارڈ فراہم کر دیا
دل کے امراض کا خطرہ
ان کے مطابق جب بیکٹیریا خون میں شامل ہوتے ہیں تو اس سے "اینڈوکارڈائٹس" جیسا مرض لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے جو دل کے والو کو متاثر کرتا ہے اور اگر علاج نہ کیا جائے تو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ڈاکٹر سرور کا کہنا ہے کہ اگرچہ دانتوں اور مسوڑھوں کی صحت کا دل کی مجموعی صحت سے گہرا تعلق ہے لیکن زبان صاف کرنے کے فوائد محدود ہیں اور ضرورت سے زیادہ اس پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی خواتین وارڈ کے انتہائی محفوظ سیل میں ہیں ، اڈیالہ جیل انتظامیہ
زبان صاف کرنے کے طریقے
نیواڈا سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر وٹنی وائٹ نے مشورہ دیا کہ اگر کوئی شخص زبان صاف کرنا چاہے تو نرم ہاتھ سے اور دن میں ایک بار ہی کرے، اور دھاتی آلہ استعمال کرے جو زیادہ حفظانِ صحت کے مطابق ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مہنگا پیٹرول، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گڈز ٹرانسپورٹ، بڑی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے ماہانہ سبسڈی دینے کا اعلان کردیا۔
فائدہ مند بیکٹیریا کی حفاظت
ان کے مطابق زبان کو بار بار یا سختی سے صاف کرنے سے زبان پر موجود فائدہ مند بیکٹیریا بھی متاثر ہو سکتے ہیں جو نائٹرک آکسائیڈ جیسے مرکبات بنانے میں مدد دیتے ہیں، جو دل کی صحت کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
منہ کی صفائی کے بنیادی اصول
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ زبان صاف کرنے کا عمل منہ کی بدبو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن اسے دانت برش کرنے اور فلاس کرنے کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ بہتر ہے کہ یہ عمل اعتدال میں رہ کر کیا جائے اور منہ کی صفائی کے بنیادی اصولوں پر قائم رہا جائے۔








