بیک وقت پنشن اور تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کو بڑا جھٹکا
وفاقی حکومت کا نیا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے ایک نیا ضابطہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ سرکاری ملازمت حاصل کرنے پر پینشن یا تنخواہ میں سے صرف ایک چیز ملے گی۔ وزارت خزانہ نے اس سلسلے میں ایک آفس میمورنڈم جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنوب مشرقی ایشیا میں بارشوں، طوفان اور سیلاب نے تباہی مچادی، انڈونیشیا 442، تھائی لینڈ 162، سری لنکا میں 212 افراد ہلاک
ریٹائرڈ ملازمین کے لیے نئے قواعد
نجی ٹی وی ڈان نیوز کے مطابق، وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ آفس میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو، 60 سال کی عمر کے بعد اگر دوبارہ ملازمت پر رکھا جاتا ہے تو انہیں سابقہ ملازمت کی پینشن یا موجودہ ملازمت کی تنخواہ میں سے کسی ایک کے حقدار ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بیٹیاں ہر میدان میں سبز ہلالی پرچم کو سربلند کر رہی ہیں : وزیراعلیٰ مریم نواز کا قومی ٹیم کو ایشیئن یوتھ گرلز نیٹ بال چیمپئن شپ جیتنے پر خراج تحسین
پے اینڈ پنشن کمیشن کی سفارشات
وزارت خزانہ نے پے اینڈ پنشن کمیشن 2020 کی سفارشات کی روشنی میں یہ احکامات جاری کیے ہیں، جن کے تحت ریگولر یا کنٹریکٹ کی صورت میں ری ایمپلائمنٹ یا تقرر کی صورت میں صرف تنخواہ یا پنشن میں سے ایک ہی چیز ملے گی۔
پنشنر کے لیے آپشن
وزارت خزانہ کے مطابق، پنشنر کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ پینشن یا تنخواہ میں سے کوئی ایک چیز منتخب کریں۔








