آئندہ جنگیں شاید پانی کے مسئلے پر ہوں، اسحاق ڈار
اسحاق ڈار کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی نے کہا کہ پانی بند کرنا جنگ کے مترادف ہوگا۔ آئندہ جنگیں شاید پانی کے مسئلے پر ہوں۔ ہم ہر لحاظ سے تیار ہیں، اور اگر کسی نے میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: صائم ایوب افسوسناک فہرست میں رضوان کے ساتھ شامل ہوگئے
بھارت کے خلاف سخت موقف
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پہلگام واقعہ پر پاکستان کو موردالزام ٹھہرانا افسوسناک ہے۔ بھارت کے پاس کوئی وجہ نہیں کہ اس واقعے کو پاکستان کے ساتھ جوڑا جائے۔ انہوں نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں لکھا ہے کہ اسے ختم کرنے کے لئے اتفاق رائے سے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: اورنگی میں اے ٹی ایم سے چوری کرنے والا ملزم گرفتار
پاکستان کی جانب سے جوابی اقدامات
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اٹاری بارڈر بند کیا، اور کل ہم نے واہگہ بارڈر بند کردیا۔ اٹاری بارڈر بند کرنے پر پاکستان نے جوابی طور پر واہگہ بارڈر کو بند کردیا۔ پاکستانی فضائی حدود بھارتی پروازوں کے لئے بند کردی گئی ہیں۔ ہم نے بھارت کے ساتھ تمام تجارت معطل کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بیورو کریسی میں تقرر و تبادلے
بھارتی ہائی کمیشن کے عملے سے متعلق اقدامات
بھارتی ہائی کمیشن میں موجود دفاعی اتاشیوں کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی شہریوں کو 30 اپریل تک پاکستان سے واپس جانا ہوگا۔ بھارتی ہائی کمیشن میں عملے کی تعداد کم کرکے 30 کردی گئی ہے اور سارک سکیم کے تحت پاکستان میں موجود بھارتیوں کے ویزے منسوخ کردیئے گئے ہیں۔ ویزا معطلی کے فیصلے کا اطلاق سکھ یاتریوں پر نہیں ہوگا۔
قومی سلامتی پر عزم
نائب وزیراعظم نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے کہا ہے کہ پانی بند کرنا جنگ کے مترادف ہوگا۔ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی لائف لائن ہے۔ ہمیں ہر لحاظ سے تیار رہنا چاہیے، اور بہتر ہے کہ بھارت ایسی کوئی غلطی نہ کرے۔ کسی نے ایڈونچر سوچا تو جواب اسی طرح ملے گا جیسے ماضی میں دیا گیا۔








