انڈس واٹر کمیشن متحرک، وزارت خارجہ، وزارت آبی وسائل اور آبی ماہرین پر مشتمل تھنک ٹینک تشکیل دینے کا فیصلہ۔
انڈس واٹر کمیشن کا جائزہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) انڈس واٹر کمیشن نے بھارت کی طرف سے معاہدے کی معطلی کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے بلاک چین و کرپٹو بلال بن ثاقب نے استعفیٰ دیدیا
تھنک ٹینک کی تشکیل
نجی ٹی وی جیو نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا جائزہ لینے کے لئے وزارت خارجہ، وزارت آبی وسائل اور انڈس کمیشن کے ماہرین پر مشتمل تھنک ٹینک تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر آصف زرداری نے زندگی میں تقریباً سب کچھ حاصل کر لیا، لیکن ان کی آخری خواہش کیا ہے؟ سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے بتا دیا۔
ہنگامی رائے اور حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ تھنک ٹینک ہنگامی بنیادوں پر معاہدے کی معطلی پر اپنی رائے کابینہ کو دے گا، وزیراعظم ماہرین کی رائے پر مزید حکمت عملی کا فیصلہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اہم پیش رفت ،طور خم اور چمن پر جدید ترین باڈر ٹرمینلز تکمیل کے آخری مراحل میں، افتتاح کب متوقع ہے؟ تفصیلات جانیے
پاکستان کی قانونی پوزیشن
ذرائع انڈس واٹر کمیشن کا بتانا ہے کہ پاکستان کی قانونی، آئینی پوزیشن بھارت کے مقابلے میں مضبوط ہے، سندھ طاس معاہدے سے ہٹ کر بھارت نے یکطرفہ غلط قدم اٹھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیول چیف کا دورہ بحرین، اعلیٰ سول و فوجی قیادت سے ملاقاتیں، دفاعی تعاون مزید بڑھانے پر تبادلہ خیال
قانونی ماہرین کی رپورٹ
ذرائع کے مطابق پاکستان جلد قانونی ماہرین کی رپورٹ کی روشنی میں ورلڈ بینک جانے کا اعلان کر سکتا ہے، پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ سے رابطے سمیت دیگر سفارتی اقدامات بھی زیر غور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشترکہ مفادات کونسل نے نئی نہروں کے حوالے سے بڑا فیصلہ کر لیا ، ذرائع
بھارت کا یکطرفہ معطل اعلان
یاد رہے کہ بھارت نے چند روز قبل مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے سیاحتی مقام پر ہونے والے فالس فلیگ آپریشن کو جواز بنا کر پاکستان کے ساتھ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے دریاو¿ں کی پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ معطلی کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان کا موقف
پاکستان کی جانب سے بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں باور کرایا گیا ہے کہ پانی 24 کروڑ پاکستانیوں کی لائف لائن ہے، اگر پاکستان کے ملکیتی پانی کو روکا گیا یا اس کا بہاو¿ موڑا گیا تو اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔








