اسلام آباد ہائیکورٹ کا لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمین کی تعیناتی 4 ہفتے میں کرنے کا حکم
اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدہ افراد بازیابی کمیشن کے چیئرمین کی تعیناتی چار ہفتے میں کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کو “عملیات وعدہ صادق 3” کا نام دے دیا، اس کا کیا مطلب ہے؟
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتہ شہری عمر عبداللہ کی بازیابی سے متعلق انکی اہلیہ کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے چیئرمین کی تعیناتی کے بعد درخواست گزار کی امدادی رقم کی کمیٹی سے منظوری کا عمل دو ہفتے میں مکمل کرنے کی بھی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے افغانستان کو 39 رنز سے شکست دے دی
امدادی رقم کی منظوری
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں بتایا کہ درخواست گزار کیلئے امدادی رقم کی منظوری دی جا چکی ہے۔ نئے چیئرمین کی تعیناتی کے بعد ہم امدادی رقم پر کارروائی آگے بڑھا سکیں گے، کیونکہ جبری گمشدہ افراد بازیابی کمیشن کے چیئرمین امدادی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے مذاکرات کے لئے 3 مطالبات پر ڈیڈ لاک ہیں، علیمہ خان
چیئرمین کی تعیناتی کا پراسیس
عدالت نے استفسار کیا کہ چیئرمین کمیشن کی تعیناتی کا پراسیس کس مرحلے میں ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ کا کہنا تھا کہ چھ ہفتے کا وقت دیدیں، تعیناتی ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: فہد مصطفیٰ کی بری عادت کیا ہے؟ فہد شیخ نے بتادیا
بچے کے ساتھ عدالتی تعامل
جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتہ عمر عبداللہ کے بیٹے کو اپنے پاس بلا کر کرسی پر بٹھا لیا، اور کہا کہ المیہ یہ ہے کہ اس بچے نے اپنے والد کو دیکھا تک نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کی پہلی کیس لسٹ جاری
انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ان کیمرہ بریفنگ
جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ عدالت نے آرڈر کیا تھا کہ مسنگ پرسن سے متعلق کوئی بھی انفارمیشن عدالت سے شیئر کریں، مجھے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کمیٹی کے نمائندوں سے ان کیمرہ بریفنگ چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک طبی معجزہ—پنجاب نے تاریخ رقم کر دی
ریاست کی ذمہ داریاں
جسٹس محسن کیانی نے مزید کہا کہ ریاست کو بتانا ہوگا کہ اس مسئلے کا حل کیسے نکالا جائے۔ اس فیملی کو معاوضہ مل جانا مسئلے کا حل نہیں، جنگ کے باوجود یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان میں 2026 کے پہلے مہمان کی آمد
پچھلی کمیشن کی کارکردگی
انہوں نے کہا کہ پچھلے جبری گمشدگی کمیشن نے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ کیس اس ہائیکورٹ میں پچھلے آٹھ نو سال سے زیرالتواء ہے۔
کیس کی سماعت کا فیصلہ
بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری گمشدہ افراد بازیابی کمیشن کے چیئرمین کی تعیناتی کے حکم کے ساتھ کیس کی سماعت 24 جون تک ملتوی کر دی۔








