اگر نیلم جہلم منصوبے کو نقصان پہنچتا تو کتنی تباہی ہوتی۔۔۔؟ چیئرمین واپڈا نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں۔
نیلم جہلم منصوبے کی اہمیت
مظفر آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اگر نیلم جہلم منصوبے کو نقصان پہنچتا تو کتنی تباہی ہوتی؟ چیئرمین واپڈا نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ میں ورچوئل اثاثہ جات ترمیمی بل منظور، بغیر لائسنس سروس دینے پر 5 سال قید اور 50 ملین جرمانہ ہوگا
چیئرمین واپڈا کی وضاحت
تفصیلات کے مطابق، چیئرمین واپڈا انجینئر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی کا کہنا ہے کہ اگر نیلم جہلم منصوبے کو نقصان پہنچتا تو پانی کے ذخیرے سے بڑی تباہی ہو سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کبھی اکیلا ہوتا تو ماں کی یادیں اور پرانے انڈین گانے میرے ہمسفر ہوتے، ریل میں بیٹھا مسافر کبھی اکیلے پن کا شکار نہیں ہوتا چھک چھک ہمیشہ ساتھ رہتی ہے
حملے کی تفصیلات
’’جنگ‘‘ کے مطابق آزاد کشمیر کی وادیٔ نیلم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے قریب آبادی کو بھی ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہماری فوج نے فوری جوابی کارروائی کی، اس پروجیکٹ میں کوئی غیر ملکی سٹاف موجود نہیں ہے، نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، ٹیکنیکل ماہرین کام کر رہے ہیں۔ بھارت نے نصف شب سے صبح 7 بجے تک اس ہائیڈرو پروجیکٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، یہ ہائیڈرو پروجیکٹ ایل او سی کے انتہائی قریب ہے اور ہماری افواج بھی یہاں تعینات ہیں۔
بھارت کے اقدامات
چیئرمین واپڈا انجینئر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی نے یہ بھی کہا کہ بجلی کی پیداوار تو واپڈا کی ذمے داری ہے لیکن اس کی ترسیل کا کام واپڈا کا نہیں، بھارت نے نیلم جہلم کے بجلی گھر کو نشانہ بنا کر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ نیلم جہلم میں پانی کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ بھارت کی کوشش تھی کہ نیلم جہلم کے سٹرکچر کو نقصان پہنچایا جائے، بھارت کی نیلم جہلم پر گولہ باری اور شیلنگ کا دورانیہ چند منٹوں کا نہیں تھا۔








