نازی تحریکیں بے رحمی سے کچلیں گے، روسی قونصل جنرل کا کراچی میں تقریب سے خطاب
روس اور پاکستانی فوجیوں کی جنگ عظیم دوم میں قربانیوں کو خراج عقیدت
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) جنگ عظیم دوم میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے روسی اور پاکستانی فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے کراچی میں تقریب منعقد کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں بچوں کی جبری مشقت کے خاتمے کے لیے سٹیرنگ کمیٹی تشکیل دیدی
تقریب کا آغاز
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق تقریب سے خطاب میں روس کے قونصل جنرل آندرے وکٹروچ فیڈرو نے کہا کہ ماضی کی طرح اب بھی نازی تحریکوں کو بے رحمی سے کچلا جائے گا تاکہ مشترکہ مستقبل محفوظ رہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے ریٹس کم کر دیے
قربانیوں کا ذکر
روسی قونصل جنرل نے کہا کہ جنگ عظیم دوم میں اتحادی افواج کے افسروں اور سپاہیوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، ان میں سے کئی کراچی کے فوجی قبرستان میں مدفون ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس (ٹوئٹر) سروس میں تعطل پر پی ٹی اے کی وضاحت سامنے آگئی
پاکستانی فوجیوں کا کردار
آندرے وکٹروچ فیڈرو نے کہا کہ پاکستانی فوجیوں نے جنگ عظیم دوم کے محاذوں پر نازیوں کے خلاف دلیرانہ انداز سے جنگ لڑی اور اس عظیم فتح میں پاکستانی فوجیوں کا کردار ہمیشہ یاد رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی لاہور پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد
پاکستان کی شمولیت
قونصل جنرل نے اس بات پر بھی پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا کہ اس نے جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے اٹھارہویں سالانہ یادگاری دن کے موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد کا مسودہ شریک مصنف کے طور پر پیش کیا تھا۔ انہوں نے پاکستان کے اس اقدام کو نازیوں کیخلاف فتح کی اہمیت کا عکاس قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کہا ”اس شترِ بے مہار کو روکو…… اس کو اک دُشنام اک دھتکار دے بیٹھو“ ایک اور لت بھی پڑ گئی، لذیذ اور چٹخارے دار کھانوں نے روز مرّہ کا تیا پانچا کر دیا۔
نئی نسلوں کے تحفظ کا عزم
آندرے وکٹروچ فیڈرو نے کہا کہ 1945 میں اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد آنیوالی نسلوں کو تیسری جنگ عظیم سے بچانا تھا اور اسی کی بدولت ملکوں کو اپنی کالونی بنانے کے نظام کا تیزی سے خاتمہ ہوا، جس سے کئی ممالک مضبوط خودمختار اقوام کے طور پر ابھرے۔
یہ بھی پڑھیں: میچ کے دوران بجلی گرنے سے امریکی فٹبالر ہلاک
سوویت یونین کی قربانیاں
جنگ عظیم دوم کا ذکر کرتے ہوئے آندرے وکٹروچ فیڈرو کا کہنا تھا کہ 80 سال پہلے سوویت یونین نے اپنے شہریوں کے اتحاد اور جرات کے ذریعے نازی جرمنی کو تباہ کردیا جو سوویت یونین، اس کی ثقافت اور روایات کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران، اسرائیل کشیدگی: چین اور جنوبی کوریا نے اپنے شہریوں کو ہدایات جاری کردیں
نازی فوج کے خلاف کامیابیاں
انہوں نے کہا کہ سرد موسم میں جاری اس جنگ میں درجہ حرارت منفی 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا تھا مگر ماسکو کا دفاع یقینی بنایا گیا۔ 900 روز تک لینن گراڈ کا محاصرہ کیے جانے کے باوجود شہریوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور انہوں نے بھرپور زندگی جاری رکھی۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت نے کسانوں کی معاونت کے لیے پیکج تیار کر لیا ہے : مراد علی شاہ
نازیوں کے خلاف قربانیاں
روسی قونصل جنرل نے کہا کہ یہ ناقابل اعتراض حقیقت ہے کہ نازیوں کے سبب سب سے زیادہ قربانیاں سوویت یونین کو دینا پڑیں۔ 2 کروڑ 70 لاکھ سوویت افراد، جن میں سے نصف عام شہری تھے، وہ جنگ عظیم دوم میں مارے گئے جبکہ نازی فوج کو تباہ کرنے میں اسی فیصد کردار سوویت سرخ فوج کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، ایران کے ساتھ معاہدہ طے نہ پائے تو ’’انتہائی سخت اقدام‘‘ کرنا پڑے گا: ٹرمپ
تاریخی واقعات کا تحفظ
روسی قونصل جنرل نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ان کا ملک نازی جرمنی کے خلاف فتح میں سوویت کردار کم کرنے کی کوششوں کو مجرمانہ عمل تصور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس جنگ عظیم دوم میں اپنے اتحادیوں امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے مگر تاریخ کو اپنی مرضی سے لکھنے اور فتح کا کریڈٹ چرانے کی کوشش کبھی برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان سلطانز کو جیت کے لیے ٹارگٹ دے دیا
نازی تحریکوں کے خلاف عزم
آندرے وکٹروچ کا کہنا تھا کہ اب بھی نازی تحریکوں کو بے رحمی سے کچلا جائے گا کیونکہ روسی شہری کسی بھی دیگر قوم کے مقابلے میں اس لعنت کے خطرے سے زیادہ بخوبی واقف ہیں۔ مشترکہ محفوظ مستقبل کی خاطر نازیوں کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کے لئے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
لافانی رجمنٹ کو خراج عقیدت
قونصل خانے کی جانب سے لافانی رجمنٹ کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا اور شرکا اپنے ان عزیزوں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے جنہوں نے جنگ عظیم میں سوویت فوج میں خدمات انجام دی تھیں。








