70 لوگوں کے قاتل نے سزائے موت سے پہلے ٹرمپ کے بارے میں کیا کہا؟ آخری الفاظ سامنے آگئے
سیریل کلر گلین راجرز کی پھانسی
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) "کیسانوا قاتل" کے نام سے مشہور سیریل کلر گلین راجرز کو فلوریڈا میں ایک خاتون کے قتل کے جرم میں پھانسی دے دی گئی۔ 62 سالہ راجرز نے مرنے سے پہلے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "امریکہ کو عظیم بناتے رہیں۔ میں جانے کے لیے تیار ہوں۔"
یہ بھی پڑھیں: دوسرے سال میں پہلی ملاقات میں ہم ایک جسم دو قالب بن چکے تھے، غلطیوں کو چھوڑنے کا وعدہ کر کے پھر محنت کا ڈول ڈال دو کامیاب ہو جاؤ گے
قتل اور سزا
راجرز کو 1995 میں ٹینا میری کربز کے قتل کے جرم میں فلوریڈا میں سزا سنائی گئی تھی، جس سے اس کی ایک بار میں ملاقات ہوئی تھی۔ اسے کیلیفورنیا میں 1995 میں سینڈرا گیلاہاؤس کے قتل کے جرم میں بھی سزائے موت سنائی گئی تھی، جو تین بچوں کی ماں تھی اور اس سے بھی اس کی ایک بار میں ملاقات ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ راجرز نے پولیس کو بتایا تھا کہ اس نے تقریباً 70 افراد کو قتل کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی ایئرپورٹ پر مسافر سے 100 تولہ سونے کی 10 اینٹیں برآمد
پھانسی کے آخری لمحات
ڈیلی سٹار کے مطابق اپنی پھانسی سے قبل راجرز نے اپنی بیوی کا شکریہ ادا کیا اور مبہم انداز میں کہا کہ "مستقبل قریب میں آپ کے سوالات کے جوابات مل جائیں گے۔" سزائے موت کا عمل 16 منٹ تک جاری رہا۔ اس کی آخری خوراک میں پیزا، چاکلیٹ کیک اور سوڈا شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟
دستاویزی فلمیں اور تحقیقات
راجرز کے بارے میں دستاویزی فلمیں بھی بنیں جن میں 2012 کی "مائی برادر دی سیریل کلر" شامل ہے۔ اس دستاویزی فلم میں او جے سمپسن کی سابقہ بیوی نکول براؤن سمپسن اور اس کے دوست رون گولڈمین کے 1994 میں ہونے والے قتل میں راجرز کے ملوث ہونے کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے تھے، لیکن لاس اینجلس پولیس ڈیپارٹمنٹ نے اس وقت ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے پاس یہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ راجرز اس میں ملوث تھا۔
فلوریڈا میں پھانسی کا پانچواں واقعہ
راجرز اس سال فلوریڈا میں پھانسی پانے والا پانچواں شخص ہے۔








