کیا پاکستان بٹ کوائن خریدے گا؟ کرپٹو کونسل کے چیئرمین بلال بن ثاقب کا بڑا اعلان
پاکستان کے معاون خصوصی برائے کرپٹو کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کرپٹو و بلاک چین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ہم کوئی پیسے خرچ کرکے بٹ کوائن نہیں خرید رہے اور پاکستان میں جو بٹ کوائن ضبط کیے گئے ہیں ان کو ہم استعمال کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا: والی بال میچ کے دوران قتل کرنے والے مجرموں کو مجموعی طور پر 94 سال کی سزا
بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کا موقف
نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان بٹ کوائن میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کررہا بلکہ دنیا کی دوسری کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر بجلی فراہم کرے گا، کرپٹو کو ریگولیٹ نہ کرنا رسک ہے تاہم کرپٹو شفاف اور ٹریس ایبل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور آنے کے 2 ماہ بعد مجھے بطور ڈائریکٹر فیلڈ پروجیکٹس فیصل آباد تعینات کر دیا گیا، 1982ء میں گھر کا نقشہ بنوانے کی غرض سے آرکیٹیکٹ سے ملا۔
کرپٹو کونسل اور عالمی سطح پر استعمال
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرپٹو کونسل بنی ہے جو دیکھ رہی ہے کہ ریگولیشنز کو کس طرف لےکر جانا ہے، عالمی سطح پر غلط سرگرمیوں کےکرپٹو کے استعمال کی شرح 0.024 فیصد اور کیش کی شرح 2 سے4 فیصد ہے، منی لانڈرنگ میں کرپٹو کے استعمال کی شرح کیش سے بہت کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے اپنی جماعت کے امیدوار کے زہران ممدانی سے ہارنے کی وجہ بتا دی
کرپٹو کی نئی ٹیکنالوجی اور فوائد
بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ کرپٹو کی لوگوں کو سمجھ نہیں ہے کیونکہ یہ نئی ٹیکنالوجی ہے، فیصلہ سازوں اور ٹیکنالوجی سے واقف نوجوانوں کے درمیان بڑا خلا ہے، جو ممالک کرپٹو کو اپنا رہے ہیں تو اس کے فوائد کو دیکھ رہے ہیں، کرپٹو اپنانے والے ممالک کی معاشی حالت پاکستان سے بہتر ہے، کرپٹو کے بہت زیادہ معاشی فائدے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ایئر لائن کے جہاز میں مسافر نے پرواز میں گھبرا جانے والے مسافر کو تھپڑ مار دیا، ویڈیو وائرل
ریگولیشن کے اہمیت
انہوں نے مزید کہا کہ کرپٹو کو ریگولیٹ نہ کرنا بڑا رسک ہے، کرپٹو کو ریگولیٹ کرکے ہم اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی طرف بھی جا سکتے ہیں، نوجوان ہمارا بڑا اثاثہ ہیں، انہیں تربیت، بہتر مواقع اور پالیسیاں نہیں دیں تو یہ بوجھ بن جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ہولی امید کا پیغام ہے، وہ امید جو ہمیں بہتر مستقبل کی خبر دیتی ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
بٹ کوائن کے قومی والٹ کا منصوبہ
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ہم کوئی پیسے خرچ کرکے بٹ کوائن نہیں خرید رہے، پاکستان میں جو بٹ کوائن ضبط کیے گئے ہیں ان کو ہم استعمال کریں گے، ان کو ہم بٹ کوائن نیشنل والٹ بناکر اس میں ڈال دیں گے، جب مائننگ شروع ہوگی تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہوگی، پارٹنر شپ سے حکومت جو بٹ کوائن کمائے گی وہ اسی والٹ میں آئیں گے، ہم ڈونیشن بھی جمع کررہے ہیں، والٹ میں پوری دنیا سے ڈونیشن آئیں گے۔
پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت
بلال بن ثاقب نے کہا کہ لوگ پاکستان کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں، لوگوں کو یقین ہے کہ پاکستان اس ٹیکنالوجی کو زبردست طریقے سے استعمال کرے گا، ہم جس ریگولیٹر فریم ورک پر کام کر رہے ہیں وہ فیٹف پالیسیوں سے ہم آہنگ ہے، پاکستان کے لیے اپنے لوہا منوانے کا یہ بہترین موقع ہے، دیگر 6 ممالک نے ہم سے رابطہ کیا ہے، ہم ان کی مدد کرسکتے ہیں۔








