کراچی کے ملیر جیل سے سینکڑوں قیدی دراصل کس طرح فرار ہوئے؟ حیران کن انکشاف
ملیر جیل سے قیدیوں کا فرار
کراچی (ویب ڈیسک) وزیرداخلہ سندھ ضیا لنجار نے زلزلے کے دوران ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعے پر بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملیر جیل کی دیوار نہیں ٹوٹی، قیدی گیٹ سے نکلے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی صدر مملکت کو رحم کی اپیل کے لیے اہم قانونی تقاضا پورا کر لیا گیا
واقعے کی تفصیلات
جیل حکام کے مطابق پیر کی رات کراچی ملیر جیل سے 100 سے زائد قیدی فرار ہوئے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاعات ہیں کہ زلزلے کے باعث ہنگامہ آرائی شروع ہوئی تھی۔ زلزلے کے باعث جیل کے بیرکس کی دیواروں میں دراڑ پڑ گئی تھی۔ کچھ قیدی جیل کی دیوار توڑ کر فرار ہوگئے۔ فرار ہونے والے 50 سے زائد قیدیوں کو دوبارہ پکڑ لیا گیا ہے جبکہ 50 سے زائد قیدی اب بھی فرار ہیں۔ اس واقعے میں 3 ایف سی اور ایک جیل پولیس اہلکار زخمی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی کوریا کے صدر چین کا سرکاری دورہ کریں گے
وزیرداخلہ کی وضاحت
وزیرداخلہ سندھ ضیا لنجار نے اس سارے معاملے پر نجی ٹی وی جیونیوز سے گفتگو میں کہا کہ ملیر جیل کی دیوار نہیں ٹوٹی، قیدی گیٹ سے نکلے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات تھیں کہ جیل کی دیوار ٹوٹی ہے۔ حتمی رپورٹ آنے تک کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت ڈرون کیوں بھیج رہا ہے، ان کا مقصد کیا تلاش کرنا ہے؟ سابق مشیر قومی سلامتی کا تہلکہ خیز انکشاف
مفرور قیدیوں کی تعداد
انہوں نے بتایا کہ 45 سے 50 کے قریب قیدی فرار ہوئے جن میں سے 30 سے 35 قیدیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دیگر مفرور قیدیوں کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
مجرموں کی نوعیت
وزیرداخلہ سندھ نے دعویٰ کیا کہ فرار ہونے والے قیدی سنگین جرائم میں ملوث نہیں تھے۔ ملیر جیل میں پیش آنے والے واقعے میں کوتاہی بھی ہوسکتی ہے۔ واقعے کی وجوہات جاننے میں کچھ وقت لگے گا۔








