جی ایچ کیو حملہ کیس: دوران سماعت پی ٹی آئی وکلاکی ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی
راولپنڈی میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت
جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکلا نے ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان کے وانا رستم بازار میں بارودی مواد کے دھماکے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 18 شہری زخمی
ہنگامہ آرائی کے اثرات
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے سامنے کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا نے ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی۔ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے 2 گواہوں کے بیانات قلم بند نہ ہو سکے جبکہ ایک گواہ اور مقدمے کے مدعی سب انسپکٹر محمد ریاض کا بیان قلمبند کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی نے کہا ہے عوام کے حقوق کا فیصلہ اب سڑکوں پر ہو گا، علیمہ خان کی اڈیا لہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو
عدالتی کارروائی
وکلا صفائی کی ہنگامہ آرائی پر اے ٹی سی جج کی جانب سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا۔ وکلا صفائی نے سماعت کے دوران سلمان اکرم راجا کو عدالت میں بلانے پر اصرار بھی کیا جس پر پراسکیوشن نے اعتراض اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بین الصوبائی وفد کا خواتین کے تحفظ کے ماڈلز کا جائزہ لینے کے لیے پنجاب کا دورہ
عمران خان کی پیشی
سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا، بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 21 جون تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ مقدمے میں کُل 31 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں۔
مقدمے میں ملزمان
جی ایچ کیو حملہ کیس میں پی ٹی آئی کی مرکزی و مقامی قیادت نامزد ہے۔ اس کیس میں 118 ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے جن میں بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، عمر ایوب، شبلی فراز، شیخ رشید اور دیگر شامل ہیں۔








