یورو کرنسی اپنانے کا اعلان، بلغاریہ کی پارلیمنٹ میدانِ جنگ بن گئی
بلغاریہ میں یورو زون میں شمولیت کی منظوری
صوفیہ (آئی این پی) بلغاریہ کی یورو زون میں شمولیت کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں ارکانِ اسمبلی گتھم گتھا ہوگئے، عوامی احتجاج بھی شدت اختیار کر گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان،282 پوائنٹس کی کمی
سیاسی ہلچل اور عوامی ردعمل
بلغاریہ کو یورپی کمیشن اور یورپی مرکزی بینک کی جانب سے لیو کی جگہ یورو کرنسی اپنانے کی منظوری ملنے کے بعد ملک کی سیاست میں ہلچل مچ گئی۔ پارلیمنٹ میں بھی شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی، مختلف جماعتوں کے ارکان آپس میں الجھ پڑے جبکہ دارالحکومت میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں ڈاکٹروں کی بھرتی کے لیے نیا معیار جاری
پارلیمنٹ میں ہنگامہ
پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران حزب اختلاف کی ریوائیول پارٹی نے اسٹیج پر چڑھ کر تقریری کارروائی روکنے کی کوشش کی، پارٹی کے رہنما کو دیگر جماعت کے رکن کو دھکیلتے ہوئے دیکھا گیا۔ انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ارکان نے ایوان کے فلور پر دھاوا بول دیا اور یورپی یونین کے حامی اراکینِ پارلیمان سے جھڑپ شروع ہو گئی، اس ہنگامہ خیز صورت حال نے جمہوری عمل کو بری طرح متاثر کیا اور ایوان کو وقتی طور پر معطل کرنا پڑا۔
مظاہرے اور عوامی مطالبات
دوسری جانب دارالحکومت صوفیہ میں ہزاروں مظاہرین بلغاریہ کے جھنڈے تھامے اور یورو نوآبادیات نامنظور کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یورو کرنسی اپنانا ملکی خودمختاری اور معیشت کے لیے خطرہ ہے، ریوائیول پارٹی یورو زون کی مخالفت میں پیش پیش رہی ہے۔








