لاس اینجلس میں تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن، شدید جھڑپیں جاری، ہزاروں سکیورٹی گارڈز تعینات
لاس اینجلس میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن
لاس اینجلس (ڈیلی پاکستان آن لائن) — امریکی شہر لاس اینجلس میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ نے بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اوپر والے نے جو لکھ دیا اسے کوئی نہیں بدل سکتا، اچانک بھارتی ورلڈ کپ سکواڈ میں جگہ بنانے والے محمد سراج پہلے میچ میں بہترین پرفارمنس کے بعد جذباتی ہو گئے
پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں
نجی ٹی وی جیو نیوز نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان دوسرے روز بھی شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم نے آبی ذخائر کی تعمیر کی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا، جلد اہم اجلاس بلانے کا فیصلہ، ورکنگ پیپر صوبائی حکومتوں سے شیئر کیا جائے گا
امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو لاکھوں تارکین وطن کی عارضی قانونی حیثیت منسوخ کرنے کی اجازت دے دی۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر گورنر لاس اینجلس اور میئر اپنے فرائض ادا نہیں کر سکتے تو وفاقی حکومت کو کچھ کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: نشے میں دھت مسافر نے ایئر ہوسٹس کے ساتھ ایسی شرمناک حرکت کردی کہ گرفتار کرلیا گیا
نیشنل گارڈز کی تعیناتی
پریس سیکرٹری وائٹ ہاؤس کے مطابق، امریکی صدر نے لاس اینجلس میں 2 ہزار نیشنل گارڈز تعینات کر دیے ہیں۔ دوسری جانب گورنر کیلی فورنیا کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تناؤ مزید بڑھے گا، تاہم حکام لاس اینجلس میں صورتحال پر قابو پانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یونان کشتی حادثے میں کتنی پاکستانی لاپتہ ہیں؟ تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی
امیگریشن پے رول کیا ہے?
خیال رہے کہ امیگریشن پے رول امریکی قانون کے تحت ایک عارضی اجازت نامہ ہے جو غیر ملکی شہریوں کو امریکہ میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی کے لیے میکسیکو کی سرحد پر اس سہولت کا استعمال کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کبھی اکیلا ہوتا تو ماں کی یادیں اور پرانے انڈین گانے میرے ہمسفر ہوتے، ریل میں بیٹھا مسافر کبھی اکیلے پن کا شکار نہیں ہوتا چھک چھک ہمیشہ ساتھ رہتی ہے
ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر
تاہم، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے انسانی بنیادوں پر دی جانے والی پے رول سکیموں کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں مارچ میں امریکہ کے ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی نے ان پروگراموں کو باقاعدہ طور پر ختم کرنے کے اقدامات شروع کیے جس سے دو سالہ پے رول کی مدت قبل از وقت ختم ہو گئی۔
تارکین وطن کی فوری ملک بدری
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پے رول کا سٹیٹس واپس لینے سے تارکین وطن کو 'ایکسپیڈائٹڈ ریموول' کہلانے والے فوری ملک بدری کے عمل میں شامل کرنا آسان ہو جائے گا۔








